قومی

Indian Navy scales up indigenous shipbuilding: بھارتی بحریہ نے 54 جہازوں کی تعمیر کے ساتھ مقامی طور پر جہاز سازی میں کیا اضافہ

یہ اقدام بھارت کی طویل المدتی بحری حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ ہے، جس کا مقصد قومی مفادات کا تحفظ اور چین و پاکستان سے پیدا ہونے والے علاقائی چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ بھارتی بحریہ کو بحرِ ہند کے خطے (IOR) میں ’’فرسٹ ریسپانڈر‘‘ اور ’’ترجیحی سکیورٹی پارٹنر‘‘ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور یہ بھارت کے “ساگر” (سیکورٹی اینڈ گروتھ فار آل ان دی ریجن) وژن کو آگے بڑھا رہی ہے۔ یہ جہاز سازی کا عمل بحری سکیورٹی کو مضبوط کرنے، شراکت داروں کی صلاحیت بڑھانے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سینئر حکام کے مطابق کئی جہاز ترسیل کے قریب ہیں اور کچھ اس سال ہی کمیشن کیے جائیں گے۔ تمام 54 جہاز 2030 تک بحری بیڑے میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ بھارت نے 2035 تک اپنی بحری قوت کو 200 سے زائد جنگی جہازوں اور آبدوزوں تک بڑھانے اور 2037 تک 230 تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

یہ مقامی مہم حکومت کے ’’آتم نربھر بھارت‘‘ اقدام سے تقویت حاصل کر رہی ہے۔ ہر منصوبہ نہ صرف دفاعی صنعت میں خود انحصاری کو مضبوط کرتا ہے بلکہ ذیلی صنعتوں میں روزگار کے بڑے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ ایک سینئر اہلکار نے کہا، ’’بھارتی بحریہ ایک ’خریدار بحریہ‘ سے ’تعمیر کنندہ بحریہ‘ میں تبدیل ہو گئی ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں جنگی جہاز بھارتی شپ یارڈز میں تیار کیے جا رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ بحریہ دسمبر 2025 تک 10 تک گھریلو سطح پر تیار شدہ جنگی جہاز کمیشن کرنے والی ہے، جو حالیہ برسوں میں سب سے بڑے انڈکشنز میں سے ایک ہوگا۔

یہ سال بھارت کی بحری جدید کاری میں ایک اہم موڑ کی علامت بھی ہے۔ یکم جولائی کو بحریہ نے روس میں تیار کردہ اسٹیلتھ ملٹی رول فریگیٹ “آئی این ایس تمل” کمیشن کی، جو بیرونِ ملک تیار کردہ آخری بڑا جنگی جہاز ہے۔ یہ پچھلے دو دہائیوں میں شامل کی جانے والی آٹھویں کریوَک کلاس فریگیٹ بھی ہے۔

ایک اور سینئر اہلکار نے کہا کہ ملکی سطح پر جہاز سازی کی رفتار جاری ہے۔ کولکتہ میں گارڈن ریچ شپ بلڈرز اینڈ انجینئرز (GRSE) کی جانب سے تیار کردہ آٹھ اینٹی سب میرین وارفیئر شالو واٹر کرافٹ (ASW-SWC) میں سے دوسرے جہاز “اندروتھ” کی حالیہ شپمینٹ اس پیشرفت کا مظہر ہے۔ 80 فیصد سے زیادہ مقامی مواد پر مشتمل اندروتھ بھارت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور درآمدات پر کم ہوتی انحصاری کا ثبوت ہے۔

بحریہ کا پھیلتا ہوا جہاز سازی کا پروگرام نہ صرف بیڑے کے سائز میں اضافے کو اجاگر کرتا ہے بلکہ طویل المدتی بحری خود انحصاری حاصل کرنے کی جانب ایک اسٹریٹجک پیش رفت کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Bharat Express

Recent Posts

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

14 minutes ago

UPSC CSE Mains Results 2026: یو پی ایس سی سول سروسز مین امتحان 2026 کا نتیجہ جاری، انٹرویو کا مرحلہ جلد ہوگا شروع

یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…

42 minutes ago

12 ماہ میں 119 بچوں کو گھرپہنچایا، دہلی پولیس کی خاتون ہیڈ کانسٹبل چنچل بنیں انسانیت کی بہترین مثال، جانئے پوری تفصیل

دہلی پولیس کی ہیڈ کانسٹبل چنچل نے ایک سال کے اندر119 لاپتہ بچوں اور16 دیگرگمشدہ…

2 hours ago

1st ODI shifted from Delhi to Visakhapatnam: دہلی کی زہریلی ہوا کے آگے جھکا بی سی سی آئی، ہندوستان-سری لنکا ونڈے کا مقام تبدیل

 بی سی سی آئی نے دہلی کی آلودگی اوراسٹیڈیم میں چل رہی تجدید کاری کے…

3 hours ago