قومی

Agnikul undertakes India’s first additive manufacturing hub for rockets: اگنیکول نے بھارت میں راکٹ کے لیے پہلا ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ ہب کیا قائم

نجی شعبے کی معروف اسپیس ٹیک کمپنی Agnikul Cosmos نے پیر کو ایک جدید ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ (3D پرنٹنگ) فیسلٹی کا افتتاح کیا جو خاص طور پر ایروسپیس اور راکٹ سسٹمز کے لیے وقف ہے۔ یہ فیسلٹی ایک مکمل مربوط ایکو سسٹم فراہم کرتی ہے، جس میں ڈیزائن، سیمولیشن، پرنٹنگ، پوسٹ پروسیسنگ، اور فینشنگ شامل ہیں، جس سے معیار، اعتماد، اور سپلائی چین کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے اور اسپیس میں تعمیرات کی لاگت 50 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔

بھارت میں پہلی بار، یہ فیسلٹی ایروسپیس اور راکٹ کے اجزاء کی 3D پرنٹنگ ایک میٹر تک کی اونچائی تک ممکن بناتی ہے۔ اس سے وہ حصے بھی تیار کیے جا سکتے ہیں جو پہلے ایڈیٹیو مینوفیکچرنگ کے لیے مشکل سمجھے جاتے تھے۔ اگنیکول اب چند دنوں میں مکمل تیار، فلائٹ ریڈی ہارڈویئر فراہم کر سکتا ہے، جس سے ترقیاتی ٹائم لائن میں نمایاں کمی اور 3D پرنٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

اگنیکول کے شریک بانی اور CEO سریناتھ روی چندرن نے کہا، ’’اگنیکول کا مقصد یہ تھا کہ خلاء تک رسائی سب کے لیے ممکن ہو۔ اس کے لیے راکٹ مینوفیکچرنگ میں مہارت کے ساتھ معیار پر بھی توجہ دینا ضروری تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اندرونِ ملک مکمل مشینری تیار کرنے سے کمپنی اسپیس ٹرانسپورٹ سسٹمز کو تیز رفتاری سے بنانے کے قابل ہو رہی ہے، اور یہ اگنیکول کی جدت اور کسٹمرز کو خلاء میں پہنچانے کے قریب لے جائے گا۔

پرنٹنگ کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ ایک مقامی طور پر ڈیزائن اور تیار شدہ ڈی-پاؤڈرنگ مشین بھی شامل ہے، جو پوسٹ پروسیسنگ کے اہم مرحلے میں اجزاء کی ہموار سطح اور خلائی معیار کو یقینی بناتی ہے۔ اس مشین کی اندرونِ ملک تیاری سے بیرونی انحصار کم ہوا اور معیار مسلسل برقرار رہتا ہے۔

شریک بانی اور COO موئن SPM نے کہا، ’’ہمارا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خلاء تک رسائی قابلِ اعتماد اور کم لاگت ہو۔ اس فیسلٹی کے ساتھ ہم نہ صرف اپنی لانچ ریڈی نیس کو بڑھا رہے ہیں بلکہ بھارت میں ایک خود کفیل اور عالمی سطح پر مقابلہ کرنے والی خلائی صنعت کی بنیاد قائم کر رہے ہیں۔‘‘

اگنیکول کے پاس پہلے ہی سنگل پیس 3D-پرنٹڈ راکٹ انجن کے لیے امریکی پیٹنٹ موجود ہے۔ اس نئی فیسلٹی کے ذریعے کمپنی اب ایک میٹر کے انجن پرنٹ کر سکتی ہے اور اپنے پچھلے ڈیزائنز کے مقابلے میں سات گنا زیادہ تھرسٹ فراہم کر سکتی ہے۔ فیسلٹی کے فعال ہونے سے کمپنی اب یہ انجن چند دنوں میں اندرونِ ملک تیار کر سکے گی، جس سے ترقیاتی عمل میں تیزی آئے گی اور بڑے پیمانے پر تیز جدت ممکن ہوگی۔

بھارت ایکسپریس۔

Bharat Express

Recent Posts

Plea on Delhi Pollution: دہلی میں فضائی آلودگی پر سپریم کورٹ کا طنزیہ تبصرہ، کہا-’’امید ہے آپ موسم کا لطف اٹھا رہے ہوں گے‘‘

عدالت عالیہ نے آلودگی کے لیے صرف پرالی جلانے کو ذمہ دار ٹھہرانے پر سوال…

52 minutes ago

Amit Shah launches Mission Uttarakhand: امت شاہ نے ’مشن اتراکھنڈ‘ کا کیا آغاز، مسلسل تیسری بار بی جے پی حکومت بنانے کے لیے 65 سے زیادہ سیٹوں کا ہدف

اتراکھنڈ یومِ تاسیس کی تقریب میں کانگریس اور راہل گاندھی پر سخت تنقید کرتے ہوئے…

1 hour ago

PM Modi meets Suryakumar Yadav: وزیراعظم مودی سے سابق بھارتی ٹی-20 کپتان سوریہ کمار یادو اور ان کے اہل خانہ کی ملاقات

سوریہ کمار اپنے اہل خانہ کے ساتھ نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی۔…

1 hour ago

Supreme Court refuses suspend Tarun Tejpal 10 Year Sentence: ترون تیج پال کو سپریم کورٹ سے ایک اور جھٹکا، 10 سال کی سزا پر روک لگانے سے انکار

وہیں گوا حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹرجنرل تشارمہتا نے ترون تیج پال کی…

2 hours ago