قومی

Congress MP Rahul Gandhi: یو ایس ٹریڈ ڈیل کے نام پر کسانوں سے غداری، راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی سے پوچھے پانچ تیکھے سوال

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی نے امریکہ اور بھارت کے درمیان ہونے والی تجارتی ڈیل پر ایک بار پھر سخت سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو بھارتی کسانوں کے ساتھ ’’اعتماد شکنی‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیرِاعظم نریندر مودی سے پانچ اہم سوال پوچھے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پوسٹ کے ذریعے مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس ڈیل کے اثرات ملک کے زرعی شعبے پر دور رس ہوں گے۔

راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یو ایس ٹریڈ ڈیل‘‘ کے نام پر بھارت کے کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے چند سادہ مگر بنیادی سوالات کا جواب چاہتے ہیں تاکہ کسانوں کو حقیقت معلوم ہو سکے۔اپنے پہلے سوال میں انہوں نے ڈی ڈی جی امپورٹ (DDG Import) کی وضاحت طلب کی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتی مویشیوں کو جینیاتی طور پر تبدیل شدہ امریکی مکئی سے تیار کردہ ڈسٹلر اناج کھلایا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو کیا اس سے بھارت کی دودھ کی پیداوار امریکی زرعی صنعت پر منحصر نہیں ہو جائے گی؟

دوسرے سوال میں راہل گاندھی نے جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویا تیل کی درآمد کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایم سویا آئل کی درآمد کی اجازت دی جاتی ہے تو مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، راجستھان اور دیگر ریاستوں کے سویا کسانوں کا کیا ہوگا؟ وہ پہلے ہی قیمتوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں وہ ایک اور معاشی جھٹکا کیسے برداشت کریں گے؟

تیسرے سوال میں انہوں نے ’’اضافی مصنوعات‘‘ کی اصطلاح پر وضاحت مانگی اور پوچھا کہ اس میں کون کون سی فصلیں شامل ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں دالوں اور دیگر اجناس کو بھی امریکی درآمدات کے لیے کھولنے کا دباؤ بڑھے گا؟

چوتھے سوال میں انہوں نے نان ٹریڈ بیریئرز ختم کرنے کے فیصلے پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق کیا اس سے بھارت پر جینیاتی فصلوں کے معاملے میں نرم رویہ اختیار کرنے، سرکاری خرید کمزور کرنے یا ایم ایس پی اور بونس میں کمی کا دباؤ ڈالا جائے گا؟

پانچویں اور آخری سوال میں راہل گاندھی نے کہا کہ اگر یہ دروازہ ایک بار کھل گیا تو اسے ہر سال مزید کھلنے سے کیسے روکا جائے گا؟ کیا اس کی کوئی واضح حد بندی ہوگی یا بتدریج مزید فصلیں اس معاہدے کا حصہ بنتی جائیں گی؟

راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ کسانوں کو ان تمام سوالات پر صاف اور واضح جواب ملنا چاہیے کیونکہ یہ معاملہ صرف آج کا نہیں بلکہ بھارت کے زرعی مستقبل کا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

8 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

10 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

10 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago