نیتی آیوگ کے سی ای او بی وی آر سبرامنیم نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی معیشت اگلے تین سالوں میں جرمنی اور جاپان سے بھی آگے بڑھ جائے گی اور 2047 تک دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت بھی بن سکتی ہے۔ نئی دہلی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سبرامنیم نے مزید کہا کہ ہندوستان دنیا کے لیے ایک تعلیمی مرکز بن سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ ہندوستان کی جمہوریت ہے۔
انھوں نے کہا ’’فی الحال ہندوستانی معیشت دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہے۔ اگلے سال کے آخر تک ہم چوتھی سب سے بڑی معیشت ہوں گے۔ اس کے اگلے سال ہم تیسری سب سے بڑی معیشت ہوں گے۔‘‘ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان کی معیشت کا حجم اس وقت 4.3 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔ انھوں نے مزید کہا ’’ہم تین سال کے عرصے میں جرمنی اور جاپان سے بڑی معشیت ہو جائیں گے۔ 2047 تک ہم دوسری سب سے بڑی معیشت (30 ٹریلین امریکی ڈالر) بن سکتے ہیں۔‘‘
سبرامنیم نے ہندوستانی کمپنیوں بشمول قانونی فرموں اور اکاؤنٹنگ فرموں پر زور دیا کہ وہ عالمی لیڈر بننے کی خواہش کریں۔ نیتی آیوگ کے سی ای او نے مزید کہا کہ درمیانی آمدنی والے ممالک کو درپیش مسائل کم آمدنی والے ممالک سے بہت مختلف ہیں۔ انھوں نے کہا ’’یہ غریبوں کو کھانا کھلانے یا ننگے کو کپڑے پہنانے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اس بارے میں ہے کہ آپ علمی معیشت کیسے بنتے ہیں۔‘‘
سبرامنیم نے نشان دہی کی کہ دنیا نے کبھی ایسی صورتحال نہیں دیکھی جہاں آبادی کم ہو جائے۔ ان کے مطابق جاپان 15000 ہندوستانی نرسیں لے رہا ہے، جرمنی 20000 ہیلتھ کیئر ورکرز لے رہا ہے کیونکہ ان کے پاس لوگ نہیں ہیں اور وہاں کا خاندانی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ انھوں نے کہا ’’ہندوستان دنیا بھر میں کام کرنے کی عمر کے لوگوں کا ایک مستحکم فراہم کنندہ ہو گا… یہ ہماری واحد سب سے بڑی طاقت ہونے جا رہی ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
اداکاری کے علاوہ ڈیانا پینٹی سماجی کاموں میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔ کووڈ-19 وبا کے…
ای ڈی کے حکام اعظم خان کو غازی آباد لے کر پہنچے، جہاں انہیں منی…
بین الاقوامی بازار میں قیمتیں بڑھنے کے باعث ملک میں بھی اس کے دام بڑھائے…
دوسری جانب بی جے پی نے بھی مغربی دہلی میں جوابی مارچ کا اہتمام کیا…
محکمہ موسمیات کے تازہ بلیٹن کے مطابق آئندہ چند روز تک ملک کے کئی حصوں…
اتر پردیش قانون ساز کونسل کی 11 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں بی…