نئی دہلی: بھارتی وزارتِ خارجہ نے امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ نہ ہونے کی ذمہ داری بھارت پر ڈالنا درست نہیں۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ سال 2025 کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان آٹھ مرتبہ براہِ راست بات چیت ہوئی ہے اور دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارتی معاہدے پر سنجیدگی سے مذاکرات کیے ہیں۔ وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو پریس بریفنگ کے دوران میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام، بالخصوص وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک کی جانب سے ٹیرف اور تجارتی معاہدے سے متعلق دیے گئے بیانات حقائق کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور امریکہ 13 فروری 2024 سے ایک متوازن اور باہمی فائدے پر مبنی دوطرفہ تجارتی معاہدے کے لیے مسلسل بات چیت کر رہے ہیں۔
رندھیر جیسوال نے کہا، ’’ہم نے ان تبصروں کو دیکھا ہے۔ بھارت اور امریکہ گزشتہ سال سے ایک دوطرفہ تجارتی معاہدے پر بات کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس دوران کئی ادوار میں مذاکرات ہوئے اور متعدد مواقع پر دونوں فریق معاہدے کے کافی قریب پہنچے تھے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی معیشتوں کو تکمیلی سمجھتے ہیں اور باہمی مفاد پر مبنی تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے امریکی وزیرِ تجارت کے دعوؤں کو غیر ضروری اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس میں جن باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، وہ مذاکرات کی اصل تصویر پیش نہیں کرتیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم مودی اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے 2025 میں آٹھ مواقع پر ٹیلی فونک گفتگو کی ہے، جن میں نہ صرف تجارت بلکہ بھارت۔امریکہ اسٹریٹجک شراکت داری کے دیگر پہلوؤں پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان دوستانہ اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’دونوں لیڈروں نے ہمیشہ سفارتی آداب کے مطابق ایک دوسرے سے بات کی ہے اور تعلقات میں کسی قسم کی ذاتی انا یا ناراضگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ قابلِ ذکر ہے کہ امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ تقریباً طے ہو چکا تھا، مگر وزیراعظم مودی کی جانب سے صدر ٹرمپ کو فون نہ کرنے کی وجہ سے یہ معاہدہ رک گیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہے ہیں اور معاہدہ نہ ہونے کی وجوہات کو یکطرفہ انداز میں پیش کرنا درست نہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ کر سماج وادی پارٹی کی…
76ویں سالگرہ پر مرکزی وزرا اور این ڈی اے رہنماؤں نے وزیر اعظم کی عوامی…
امت شاہ کے 2029 سے پہلے این ڈی اے کی زیرِ حکومت 21 ریاستوں میں…
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
17 ستمبر 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ پر دروپدی مرمو اور…
مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا، اردو کسی ایک مذہب یا ملک کی زبان نہیں…