قومی

India’s record textile exports: ہندوستان نے 7 فیصد اضافے کے ساتھ بنایا ٹیکسٹائل کی برآمدات کا نیا ریکارڈ، حکومت نے مزید ترقی کے لیے نافذ کیں کئی اسکیمیں

ہندوستان ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے، جو کہ عالمی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں 4% فیصد حصہ داری رکھتا ہے۔ جمعہ کو لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں ٹیکسٹائل کی وزارت نے پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے اپریل سے دسمبر 2024 تک ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں 7 فیصد اضافے کی اطلاع دی۔ مالی سال 2023-24 کے دوران ہندوستانی ٹیکسٹائل کی کلیدی برآمدی منڈیوں یعنی امریکہ، یوروپی یونین اور یوکے میں 53% برآمدات ہوئیں۔

عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے حکومت نے کئی اہم اقدامات متعارف کروائے ہیں۔ ان میں پی ایم میگا انٹیگریٹڈ ٹیکسٹائل ریجنز اینڈ اپیرل (PM MITRA) پارکس اسکیم ہے، جس کا مقصد عالمی معیار کا ٹیکسٹائل انفراسٹرکچر بنانا ہے۔ وہیں پی ایل آئی اسکیم ایم ایم ایف فیبرک، ملبوسات اور تکنیکی ٹیکسٹائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ان میں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ دیگر کوششوں میں نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن شامل ہے، جو تحقیق اور مارکیٹ کی ترقی پر زور دیتا ہے اور صلاحیت سازی کا ایک پروگرام SAMARTH ٹیکسٹائل کے شعبے میں روزگار پر مبنی مہارت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی صنعت میں ہندوستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری انسانی ساختہ ریشوں کے ساتھ ساتھ کپاس، ریشم، اون اور جوٹ جیسے قدرتی ریشوں پر مشتمل ایک مضبوط خام مال کی بنیاد پر سب سے ممتاز ہے۔ ملک میں فائبر سے لے کر تیار شدہ ملبوسات تک ہر طرح کی جامع مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں موجود ہیں۔ وہیں کپاس کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے اور اس کی کاشت کو بڑھاوا دینے کے لیے ہندوستانی حکومت کپاس کے لیے سالانہ کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) مقرر کرتی ہے۔ یہ طریقہ کار اس وقت کسانوں کی آمدنی کی حفاظت کرتا ہے جب مارکیٹ کی قیمتیں ایم ایس پی کی شرح سے نیچے آتی ہیں اور مسابقتی قیمتوں پر کپاس کی دستیابی کو یقینی بناتی ہیں۔ مزید برآں 20 فروری 2024 سے ایکسٹرا لانگ اسٹیپل (ELS) کپاس پر کسٹم ڈیوٹی کو صفر کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے دسمبر 2022 سے بھارت-آسٹریلیا اقتصادی تعاون اور تجارتی معاہدے (ECTA) کے تحت 51,000 ٹن ڈیوٹی فری ELS کپاس کی درآمد ہوئی۔

ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت نے اٹھائے ہیں کئی اقدام

ہندوستان نے اپنی برآمدی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے 14 آزاد تجارتی معاہدوں (FTAs) پر بھی دستخط کیے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا، اور یورپی فری ٹریڈ ایسوسی ایشن (EFTA) کے ساتھ سودے اور چھ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTAs) بھی شامل ہیں۔ ریاستی اور مرکزی ٹیکسوں اور لیویز کی چھوٹ (RoSCTL) اسکیم اور برآمدی مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی معافی (RoDTEP) پروگرام مسابقت کو بڑھا کر اور صفر درجہ بندی والی برآمدات کو فروغ دے کر اس صنعت کو مزید تعاون فراہم کرتا ہے۔

نیشنل ٹیکنیکل ٹیکسٹائل مشن، جو 2020-2026 تک کے لیے شروع کیا گیا ہے، خاص ریشوں اور ایپلی کیشن پر مبنی ٹیکسٹائل جیسے جیو ٹیکسٹائل، میڈیکل ٹیکسٹائل اور کھیلوں کے ٹیکسٹائل میں جدید تحقیق پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ مشن غیر روایتی قدرتی ریشوں جیسے دودھ کی گھاس اور بانس کا استعمال کرتے ہوئے بائیو ڈی گریڈ ایبل ٹیکسٹائل کی تحقیق کو بھی فروغ دیتا ہے۔

اختراعات کے لیے حکومت کی مہم کے ایک حصے کے طور پر ٹیکسٹائل کی وزارت نے اسٹارٹ اپ انڈیا اور شعبہ برائے فروغ صنعت اور اندرونی تجارت (DPIIT) کے ساتھ مل کر مختلف اختراعی چیلنجز کا بھی انعقاد کیا ہے۔ ان چیلنجز کے فاتحین کو انکیوبیشن کے مواقع اور پائیدار ٹیکسٹائل حل، جیسے کہ ٹیکسٹائل ویسٹ ری سائیکلنگ اور بائیو بیسڈ فائبر پروڈکشن میں ان کی شراکت کے لیے ایوارڈ بھی دیا گیا۔

وہیں کم معیاری کپڑوں کی درآمد کو روکنے کے لیے حکومت نے متعلقہ ہارمونائزڈ سسٹم آف نومینکلچر (HSN) کوڈز پر فی کلوگرام USD 3.50 کی کم از کم درآمدی قیمت (MIP) عائد کی۔ تازہ ترین بجٹ میں بعض HSN کوڈز پر کسٹم ڈیوٹی میں بھی ترمیم کی گئی۔ مزید یہ کہ گھریلو پروڈیوسرز کو غیر معیاری اشیاء کی آمد سے بچانے کے لیے مختلف کوالٹی کنٹرول آرڈرز (QCOs) نافذ کیے گئے ہیں۔

Ghulam Mohammad

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

3 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

4 hours ago