نئی دہلی: ذرائع کے مطابق بھارت اور روس دسمبر کے اوائل میں صدر ولادیمیر پوتن کے مجوزہ دورۂ بھارت کی تاریخیں طے کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف صدر کے دورے سے قبل بھارت آئیں گے تاکہ سربراہی اجلاس کی تیاری اور اہم دوطرفہ معاملات پر گفتگو کی جا سکے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس میں (27 ستمبر) لاوروف نے اعلان کیا تھا کہ صدر پوتن دسمبر میں نئی دہلی کا دورہ کریں گے، جس کے لیے سفارتی تیاریوں پر کام جاری ہے۔
وسیع دوطرفہ ایجنڈا
لاوروف نے کہا کہ بھارت-روس تعلقات میں تجارت، دفاعی و تکنیکی تعاون، فنانس، ہیلتھ کیئر، ہائی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) اور برکس جیسے عالمی فورمز پر قریبی ہم آہنگی شامل ہے۔ امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف اور روسی تیل کی درآمدات سے متعلق سوال پر روسی وزیر خارجہ نے کہا: ’’یہ شراکت داری کسی خطرے میں نہیں ہے۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے مطابق آزادانہ فیصلے کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘
بھارت کی خودمختار پالیسی پر اعتماد
لاوروف نے بھارت کی خارجہ پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکہ یا کسی تیسرے ملک کے ساتھ بھارت کے معاملات روس-بھارت تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی اور ماسکو کے درمیان تعلقات ’’خصوصی اور مراعات یافتہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی حمایت
روسی وزیر خارجہ نے بھارت کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں مستقل رکن بننے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ نئی اصلاحات کے ذریعے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی نمائندگی کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اہمیت کے تناظر میں دورہ
یہ دورہ ایسے وقت میں متوقع ہے جب روس-یوکرین تنازع جاری ہے اور امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر روسی تیل خریدنے کے باعث ٹیرف عائد کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پوتن کا دورہ نہ صرف دہلی اور ماسکو کے دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت دے گا بلکہ ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع بھی کھولے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…