جنگ بندی کے معاہدے کے بعد پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان آج اہم میٹنگ ہونے جارہی ہے۔ بھارت کے ڈی جی ایم او راجیو گھئی اور ان کے پاکستانی ہم منصب جنرل کاشف چودھری دوپہر 12 بجے اہم بات چیت کریں گے۔ یہ میٹنگ 10 مئی کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد ہونے جا رہی ہے۔ جنگ بندی کا معاہدہ اس وقت شروع ہوا جب پاکستانی ڈی جی ایم او نے 10 مئی کو اپنے بھارتی ہم منصب کو ممکنہ جنگ سے بچنے کی تجویز دی۔ چند گھنٹوں بعد دونوں طرف سے جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ سکریٹری خارجہ وکرم مسری نے ایک پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ ڈی جی ایم او سطح کی بات چیت کا اگلا دور 12 مئی کو ہوگا۔اب سے چند گھنٹے بعد ہونے والی اس میٹنگ کو لیکر تیاری مکمل کرلی گئیں ہیں۔
وہیں بھارت نے واضح کیا ہے کہ کشمیر یا سندھ آبی معاہدہ جیسے حساس معاملات اس بات چیت کا حصہ نہیں ہوں گے۔ حکومت نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان فی الحال کوئی سفارتی بات چیت کی تجویز نہیں ہے۔ بھارت کا موقف بالکل واضح ہے۔ اب صرف ایک مسئلہ رہ گیا ہے، وہ ہے پی او کے کی واپسی۔ اگر پاکستان دہشت گردوں کو حوالے کرنے کی بات کرتا ہے تو ہی بھارت مزید بات چیت پر غور کرے گا۔
جنگ بندی کے بعد پہلی بارپرسکون رات گزری
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے بعد، کل رات (11-12 مئی 2025) جموں و کشمیر اور ایل او سی سے متصل دیگر علاقوں میں امن کی صورت نظرآئی ۔ کسی واقعے کی کوئی خبر نہیں ہے۔پاکستان کی جانب سے کوئی فائرنگ نہیں کی گئی ۔ پہلگام حملے کے بعد پہلی بار سرحد پر پڑوسی ملک سے کوئی نقل و حرکت نظر نہیں آئی ہے۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے یہ اطلاع ملی ہے۔
یاد رہے کہ10 مئی کی شام کو بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک نے امن برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، تین گھنٹے کے اندر، پاکستان نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور کئی بھارتی شہروں پر ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ بھارتی فوج نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو مار گرایا۔پہلگام حملے کے بعد پاکستان جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں مسلسل فائرنگ کر رہا ہے جس کا ہندوستانی فوج منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔ 7 سے 10 مئی کے درمیان پاکستان نے کئی بھارتی فوجی اڈوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی لیکن ایک بھی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ بھارت نے پڑوسی ملک کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
یاد رہے کہ بھارت نے 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے میں 26 شہریوں کی ہلاکت کے جوابی کارروائی کے طور پر ‘آپریشن سندور’ شروع کیا تھا۔ اس کے تحت پاکستان اور پی او کے میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ ہندوستانی فوج نے کہا کہ ان حملوں میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا گیا اور شہریوں کو نقصان سے بچایا گیا۔
بھارت ایکسپریس۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…