قومی

The Two-State Solution: فلسطین کی آزادی کے حق میں بھارت نے اٹھائی آواز،کہا-کاغذی کارروائی سے آگے بڑھنے کی ہے سخت ضرورت

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دیرینہ تنازعے کا مستقل حل تلاش کرنے کے مقصد سے اقوام متحدہ میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں دنیا کے بیشتر ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے دوران کئی دہائیوں سے چلے آ رہے اس مسئلے پر مختلف ممالک نے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ ہندوستان نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی اور اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا۔ہندوستان نے اقوام متحدہ میں واضح طور پر کہا کہ اسرائیل-فلسطین تنازعہ کو حل کرنے کے لیے جاری عالمی کوششوں کو اب بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے دو ریاستی حل حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ کسی کو کاغذی حل سے مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے پرواتھنی ہریش نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی کانفرنس میں ہونے والی بحث اس بات کا تعین کرتی ہے کہ بین الاقوامی برادری کا ماننا ہے کہ دو ریاستی حل کے علاوہ کوئی دوسرا متبادل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس دو ریاستی حل کے ذریعے امن کے قیام کی طرف اب تک کے راستے پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

ہریش نے کہا، ‘اب ہماری کوششوں کو اس بات پر  مرکوز کرنی چاہیے کہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے دو ریاستی حل کیسے لایا جائے اور دونوں لڑنے والی جماعتوں کو ایک دوسرے سے براہ راست رابطہ میں لایا جائے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں کہاکہ حمایت کی توثیق ایسے اقدامات کی شکل میں ہونی چاہیے جو دو ریاستی حل کے راستے کو آسان بنائیں۔ ہماری توجہ اور کوششیں ایسے اقدامات اور ان کے طریقہ کار کی نشاندہی پر ہونی چاہیے۔25 صفحات پر مشتمل نتائج کی دستاویز جس کا عنوان ‘نیویارک کا اعلامیہ فلسطین کے سوال کے پرامن حل اور دو ریاستی حل پر ہے’ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں جنگ اب ختم ہونی چاہیے اور حماس کو تمام مغویوں کو رہا کرنا چاہیے۔ 28-30 جولائی کو ہونے والی اس اعلیٰ سطحی کانفرنس کی مشترکہ صدارت سعودی عرب اور فرانس کر رہے ہیں۔

 فلسطینیوں کی زندگیوں میں تبدیلیاں نتائج کی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حماس کو غزہ میں اپنی حکمرانی ختم کرنی چاہیے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنا ہوں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے بعد فلسطینی اتھارٹی کو فوری طور پر غزہ میں کام کرنے کے لیے ایک انتظامی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔ہندوستان کی جانب سے پیش سفیر ہریش نے کہا کہ اقوام متحدہ کی کانفرنس سے کچھ ورکنگ پوائنٹس سامنے آرہے ہیں اور ان پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمیں کاغذی حل سے مطمئن نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایسے عملی حل کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے جو ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی زندگیوں میں واقعی تبدیلی لاسکیں۔انہوں نے اس ‘عظیم کوشش’ میں تعاون کرنے کے لیے ہندوستان کی مکمل حمایت کا بھی اظہار کیا۔ ہریش نے کہا کہ ہندوستان نے مختصر وقت میں کئے جانے والے اقدامات پر واضح موقف اختیار کیا ہے۔ ان میں فوری جنگ بندی، انسانی بنیادوں پر امداد جاری رکھنا، تمام مغویوں کی رہائی اور بات چیت کا راستہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

LPU Student Protest: ایل پی یو میں طلبہ کا احتجاج بے قابو، پولیس کے ساتھ جھڑپ، فگواڑا-جالندھر ہائی وے جام، کئی گاڑیاں میں لگائی آگ

لولی پروفیشنل یونیورسٹی کے باہر احتجاج نے اختیار کی پُرتشدد شکل، طلبہ نے نعرے بازی…

2 hours ago

Ashok Singhal Birth Centenary: اشوک سنگھل کی جنم صدی پر گونجا ’رام نام‘، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نوجوانوں سے کیا اپیل

بھارت منڈپم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اشوک سنگھل…

3 hours ago

Virat Kohli Century: ترواننت پورم میں ’کنگ کوہلی‘ کا طوفان! سنچری جڑ کر ویسٹ انڈیز کو کیا بے حال، ہندوستان نے 8 وکٹ سے ہرایا

 ہندوستان نے وراٹ کوہلی اور کپتان شبھمن گل کی شاندار سنچریوں کی بدولت اتوار کو…

3 hours ago

Amit Shah Congress Challenge: امت شاہ کی کانگریس کو دوٹوک للکار، کہا- بے بنیاد دعوؤں کے بجائے اعداد و شمار کے ساتھ کریں بات

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو کانگریس پر حملہ تیز کرتے ہوئے سابق…

4 hours ago