سیاست

Parliament Monsoon Session Day 8: حملے ہوتے رہے اور یو پی اے مٹھائی کھلاتی رہی… جے پی نڈا کا حزبِ اختلاف پر حملہ

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نےراجیہ سبھا میں کانگریس اور یو پی اے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ملک پر دہشت گرد حملے ہوتے رہے، اور دوسری طرف اس وقت کی حکومت پاکستان کو خوش کرنے میں لگی رہی

جے پی نڈا نے دعویٰ کیا کہ 2004 سے 2014 کے دوران دہشت گرد حملوں میں 1770 لوگ مارے گئے، لیکن ان حملوں کے باوجود اس وقت کی حکومت خاموش تماشائی بنی رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ آج ہم سے پہلگام حملے پر جواب مانگ رہے ہیں، وہ پہلے اپنے دس سال کے دور حکومت کو دیکھیں۔

نڈا نے زور دے کر کہا کہ مضبوط سیاسی قیادت اور بروقت فیصلہ لینے والی حکومت ہی ملک کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔

راجیہ سبھا میں “آپریشن سندور” پر بحث کے دوران مرکزی وزیر جے پی نڈا نے کہا کہ اُس وقت کی حکومت نے 2005 کے دہلی سیریل بم دھماکوں، 2006 کے وارانسی دہشت گرد حملے، اور 2006 کے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ مسئلہ یہ ہے کہ اُس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی، تجارت، اور سیاحت ساتھ ساتھ جاری رہے۔ جے پی نڈا نے بتایا کہ 2004 سے 2014 کے درمیان دہشت گرد حملوں میں 1770 افراد مارے گئے، جب کہ 2014 سے 2024 کے درمیان ایسے حملوں میں 357 افراد جاں بحق ہوئے۔

بی جے پی کے رکنِ پارلیمان جے پی نڈا نے کہا کہ کانگریس ہم سے پہلگام حملے پر جواب مانگ رہی ہے، جب کہ ان کے اپنے دور حکومت میں کئی دہشت گرد حملوں کے باوجود اس وقت کی حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے خوشامدی سیاست کے تحت پاکستان سے خوشگوار تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی۔ کانگریس پاکستان کو مٹھائی پر مٹھائی کھلاتی رہی اور وہاں سے بم اور گولیاں آتی رہیں۔

بی جے پی لیڈر جے پی نڈا نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے سیاسی قیادت کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جو حکومت وقت پر فیصلے کرتی ہے، وہی مؤثر ہوتی ہے۔ نڈا نے 2004 سے 2014 کے درمیان کی سابقہ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُس دور میں کئی دہشت گرد واقعات پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے حزبِ اختلاف پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ پہلگام حملے پر کیا قدم اٹھایا گیا، انہیں پہلے اپنے دورِ اقتدار پر نظر ڈالنی چاہیے۔

کانگریس کے رکن پارلیمان دیپندر سنگھ ہُڈا نے کہا، ’’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 31ویں بار یہ دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی انہوں نے کرائی تھی۔ اس پر بھارت کے وزیرِ اعظم مودی کو بھی کھل کر اپنا مؤقف دینا چاہیے۔ ملک کسی بھی سیاسی جماعت سے بالاتر ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rupee jumps 56 paise to 93.91: ڈالر کے مقابلے روپے میں زبردست تیزی، 56 پیسے مضبوط ہوکر 93.91 پر بند

ڈیلروں کا کہنا تھا کہ غیر ملکی بینک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں کی…

28 minutes ago

Delhi AQI Today: دہلی-این سی آر میں آلودگی کی مار، گریپ-3 نافذ، اے کیو آئی 400 کے پار، ان گاڑیوں پر پابندی

محکمہ موسمیات ہند (آئی ایم ڈی) کے مطابق، ہفتہ 7 نومبر کو دہلی-این سی آر…

2 hours ago

Lucknow & Andaman Islands are symbols of courage: لکھنؤ اور انڈمان برطانوی اقتدار کے خلاف جرأت، قربانی اور حب الوطنی کی علامت: ڈاکٹر دنیش شرما

سیلولر جیل آزادی کے متوالوں پر ہونے والے ظلم، اذیت اور ان کی قربانیوں کی…

11 hours ago