نئی دہلی: بھارت حکومت نے گھریلو استعمال کے لیے ایل پی جی کی سپلائی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے تیل ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے اور اس اضافی پیداوار کو بنیادی طور پر گھریلو صارفین کے لیے مختص کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد عام صارفین کو گیس کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا اور ذخیرہ اندوزی یا بلیک مارکیٹنگ کو روکنا ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق گیس سلنڈر کی بکنگ کے درمیان کم از کم 25 دن کا وقفہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ”انٹر بکنگ پیریڈ“ کہا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی صارف ضرورت سے زیادہ سلنڈر جمع نہ کر سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں بڑھتی طلب کے پیش نظر گھریلو صارفین کو ترجیح دینا ضروری تھا۔
حکومت نے غیر گھریلو شعبے کے لیے بھی نئی حکمت عملی تیار کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق درآمد شدہ ایل پی جی کو اب اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ دوسری جانب ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے گیس کی فراہمی کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے تین ایگزیکٹو ڈائریکٹروں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو اس معاملے کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرے گی۔
ادھر ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بنگلورو ہوٹلز ایسوسی ایشن نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کمرشل گیس سلنڈروں کی سپلائی اچانک روک دی گئی ہے جس سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہوٹل انڈسٹری کو بنیادی خدمات کا حصہ سمجھا جانا چاہیے کیونکہ لاکھوں لوگ روزانہ کھانے پینے کے لیے ان اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات صرف کاروبار تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عام شہریوں، طلبہ، بزرگوں اور اسپتالوں میں زیر علاج افراد کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر گیس کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہی تو کھانے پینے کی خدمات فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا۔
ہوٹل انڈسٹری کے نمائندوں نے یہ بھی کہا کہ آئل کمپنیوں نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ تقریباً 70 دن تک گیس کی سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی، لیکن اچانک سپلائی رک جانا کاروباری اداروں کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکزی حکومت جلد اس مسئلے کا حل نکالے گی اور کمرشل گیس کی سپلائی دوبارہ بحال کرے گی۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر جلد سپلائی معمول پر نہ آئی تو کئی ہوٹل اور ریسٹورنٹ بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مجموعی طور پر حکومت کا یہ فیصلہ گھریلو صارفین کے لیے تو فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے، لیکن ہوٹل اور ریسٹورنٹ انڈسٹری کے لیے یہ ایک بڑی آزمائش بن کر سامنے آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…