گروگرام: ہریانہ کے سائبر سٹی گروگرام کے سدھراولی علاقے میں ایک زیرِ تعمیر ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آنے والے ہولناک حادثے نے پورے علاقے کو دہلا دیا۔ پیر کی شام ایک تعمیراتی مقام پر بیسمنٹ کی کھدائی کے دوران مٹی اور کنکریٹ کی بڑی دیوار اچانک گر گئی جس کے نتیجے میں کئی مزدور ملبے تلے دب گئے۔ اب تک سات مزدوروں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ حادثے کے بعد جائے وقوعہ پر چیخ و پکار اور امدادی ٹیموں کی دوڑ دھوپ نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ یہ واقعہ بلاسپور تھانہ علاقے میں واقع سگنیچر گلوبل سوسائٹی کے تعمیراتی مقام پر پیش آیا۔ عینی شاہدین اور مقامی سرپنچ کے مطابق یہاں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے تقریباً 30 سے 40 فٹ گہرا گڑھا کھودا جا رہا تھا۔ پیر کی رات تقریباً آٹھ بجے کے قریب جب 25 سے زیادہ مزدور گڑھے کے اندر کام کر رہے تھے تو اوپر سے مٹی کا ایک بڑا حصہ اور کچی دیوار اچانک منہدم ہو گئی۔ اندھیرا ہونے کے باعث مزدوروں کو سنبھلنے کا موقع بھی نہ ملا اور وہ ملبے کے نیچے دب گئے۔
حادثے کے فوراً بعد وہاں کی صورتحال نے بلڈر کی جانب سے حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ حادثے کے بعد سوسائٹی کے داخلی دروازے پر بڑی تعداد میں باؤنسر تعینات کر دیے گئے اور کئی جگہوں کی لائٹس بھی بند کر دی گئیں۔ میڈیا اور مقامی افراد کو اندر جانے سے روک دیا گیا جس کی وجہ سے شکوک پیدا ہوئے کہ شاید حادثے سے متعلق کچھ حقائق چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے اس پہلو کو بھی اپنی ابتدائی جانچ میں شامل کر لیا ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی بلاسپور پولیس، این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں۔ رات بھر جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں بھاری مشینوں اور جے سی بی کی مدد سے ملبہ ہٹایا گیا۔ تقریباً سات گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے بعد کئی مزدوروں کو ملبے سے نکالا گیا۔ مجموعی طور پر 12 مزدوروں کو نکال کر راجستھان کے بھیواڑی واقع ضلع اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے سات مزدوروں کو مردہ قرار دے دیا۔
مرنے والوں میں ستیش، بھاگیرتھ، ملن، شیوشنکر، منگل اور پرمیشور سمیت دیگر مزدور شامل ہیں۔ باقی زخمی مزدوروں کا اسپتال میں علاج جاری ہے اور ان میں سے کچھ کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ اس المناک حادثے نے مزدوروں کی حفاظت اور تعمیراتی مقامات پر حفاظتی ضابطوں کی صورتحال پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اتنی گہری کھدائی کے باوجود مٹی کو روکنے کے لیے مناسب سہارا فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق ایسی کھدائی کے دوران مضبوط حفاظتی ڈھانچہ بنانا ضروری ہوتا ہے تاکہ مٹی یا دیوار کے گرنے کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
پولیس ترجمان سندیپ کمار نے بتایا کہ متوفی مزدوروں کے اہل خانہ کے بیانات کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور اگر تعمیراتی مقام پر کسی بھی قسم کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افسران، ٹھیکیداروں اور کمپنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ادھر مقامی لوگوں اور مزدور تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے اور آئندہ ایسے حادثات سے بچنے کے لیے تعمیراتی مقامات پر حفاظتی ضابطوں کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
اس شلوک کا مفہوم ہے کہ جس شخص کا ذہن تذبذب سے پاک، جو نظم…
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…