گاندھی نگر (گجرات): وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو اعلان کیا کہ بھارت اور جرمنی نے اپنی اقتصادی شراکت داری کو ’’لامحدود‘‘ تعاون میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت روایتی شعبوں کے ساتھ ساتھ اسٹریٹجک شعبوں میں بھی تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ بھارت-جرمنی سی ای اوز فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جرمن چانسلر مرز کا ایشیا کے پہلے دورے کے لیے بھارت کا انتخاب کرنا، جرمنی کی تنوعی حکمت عملی میں بھارت کے مرکزی کردار اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا: ’’ہم نے اس ہموار اقتصادی شراکت داری کو لامحدود بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روایتی اقتصادی شعبوں کے ساتھ اب اسٹریٹجک شعبوں میں بھی گہرا تعاون ہوگا۔ دفاعی شعبے میں آج ہم مشترکہ اعلامیے (Joint Declaration of Intent) کا تبادلہ کر رہے ہیں۔‘‘
بھارت کی تیز رفتار ترقی اور اصلاحات
وزیراعظم مودی نے کہا کہ دفاع، خلاء، کان کنی اور جوہری توانائی سمیت اسٹریٹجک شعبوں میں جامع اصلاحات کے باعث بھارت 8 فیصد سے زائد کی ترقی کی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضابطہ جاتی بوجھ میں کمی اور کاروبار میں آسانی (Ease of Doing Business) میں بہتری نے بھارت کو عالمی سطح پر ترقی اور امید کی علامت بنا دیا ہے۔
انڈیا-یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ
وزیرِ اعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ انڈیا-یورپی یونین فری ٹریڈ ایگریمنٹ جلد ہی عملی شکل اختیار کرے گا، جس سے تجارت، سرمایہ کاری اور دو طرفہ شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
جرمن صنعت کے لیے دعوت
وزیرِ اعظم نے جرمن صنعت کو دعوت دی کہ وہ اپنی درستگی اور اختراعات کو بھارت کے پیمانے اور رفتار کے ساتھ جوڑے۔ انہوں نے کہا: ’’یہاں آپ کے لیے راستہ بالکل واضح ہے۔ جرمن درستگی اور جدت کو بھارت کے اسکیل اور اسپیڈ کے ساتھ ملائیے۔ آپ بھارت میں مینوفیکچرنگ کر سکتے ہیں، گھریلو طلب سے پورا فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور بغیر کسی پابندی کے برآمدات کر سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے میں یقین دلاتا ہوں کہ مستحکم پالیسیوں، باہمی اعتماد اور طویل مدتی وژن کے ساتھ بھارت جرمنی کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرے گا۔‘‘
صاف توانائی اور نئی ٹیکنالوجیز میں شراکت
وزیراعظم کے مطابق ہند-جرمنی شراکت داری دو طرفہ طور پر فائدہ مند ہے اور عالمی استحکام میں بھی کردار ادا کرتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بھارت گرین ہائیڈروجن، شمسی، ہوائی توانائی اور بایوفیول میں قیادت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرمن کمپنیوں کے لیے سولر سیلز، الیکٹرولائزرز، بیٹریز اور ونڈ ٹربائنز کی تیاری میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ ’’ہم مل کر ای-موبیلیٹی سے لے کر غذائی اور صحت کے تحفظ تک دنیا کے لیے حل تیار کر سکتے ہیں۔ بھارت کا مصنوعی ذہانت (AI) کے لیے جامع وژن ہے، اور جب جرمنی کا اے آئی ایکو سسٹم اس سے جڑتا ہے تو ہم انسان دوست ڈیجیٹل مستقبل کو یقینی بنا سکتے ہیں۔‘‘
اہم اورابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر توجہ
دونوں ممالک نے قابل اعتماد شراکت داری کو ٹیکنالوجی شراکت داری میں بدلنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم نے سیمی کنڈکٹرز، پاور الیکٹرانکس، بایوٹیک، فن ٹیک، کوانٹم کمپیوٹنگ اور سائبر سکیورٹی کو بے پناہ امکانات کے حامل شعبے قرار دیا۔
دو طرفہ تجارت پچاس ارب ڈالر سے تجاوز
بھارت-جرمنی تعلقات کی پلاٹینم جوبلی کے موقع پر وزیراعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت 50 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ پیش رفت بھارتی ایم ایس ایم ایز اور جرمنی کے متلسٹینڈ کے درمیان تعاون، نیز آٹوموبائل، کیمیکل اور توانائی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…
گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…
دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…
کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…
حکام کے مطابق، سڑکوں کے کئی حصے اب بھی متاثر ہیں، جس کی وجہ سے…
بیشتر معاملات میں ووٹروں کا ریکارڈ 2002 میں دہلی میں ہونے والی گزشتہ SIR کی…