قومی

Supreme Court On Election Commissioners: ”جب صدر کو بھی اتنی چھوٹ نہیں، تو الیکشن کمشنرز کو کیوں“؟- سپریم کورٹ میں 2023 کے الیکشن قانون کو چیلنج

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کو تاحیات قانونی تحفظ فراہم کرنے والے الیکشن قانون 2023 کو چیلنج کرنے والی عرضی پر مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں سے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قانون کی آئینی حیثیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کیونکہ اس کا براہِ راست تعلق جمہوریت اور آزاد و منصفانہ انتخابات کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ یہ نوٹس چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بینچ نے جاری کیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت یہ جانچ کرے گی کہ آیا اس قانون کے ذریعے دی گئی چھوٹ سے کسی قسم کا نقصان ہو سکتا ہے اور آیا آئین کے تحت اس طرح کی تاحیات قانونی چھوٹ دینا درست ہے یا نہیں۔ تاہم، عدالت نے فی الحال اس قانون پر فوری روک لگانے سے انکار کر دیا۔

یہ عرضی غیر سرکاری تنظیم “لوک پرہاری” کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے دلیل دی کہ ہندوستانی آئینی ڈھانچے میں اتنی وسیع قانونی چھوٹ تو ملک کے صدر کو بھی حاصل نہیں ہے، پھر الیکشن کمشنروں کو یہ خصوصی تحفظ کیسے دیا جا سکتا ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں اس قانون پر بحث کے دوران خود حکومتی وزیر نے تسلیم کیا تھا کہ یہ بل صرف سروس شرائط سے متعلق ہے، جبکہ فوجداری اور دیوانی کارروائی سے استثنا کو سروس شرائط کا حصہ نہیں مانا جا سکتا۔

درخواست گزار کے مطابق یہ شق نہ صرف جوابدہی کے اصول کے خلاف ہے بلکہ آزاد اور شفاف انتخابات کے تصور کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمشنروں کے خلاف ایف آئی آر یا مقدمہ درج ہی نہ ہو سکے تو کسی بھی ممکنہ بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال پر سوال اٹھانا ناممکن ہو جائے گا۔

کانگریس پہلے ہی اس قانون پر اپنا اعتراض ظاہر کر چکی ہے
عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی اس قانون پر شدید اعتراض جتا چکی ہیں۔ 2023 میں منظور کیے گئے اس قانون کے تحت چیف الیکشن کمشنر اور دیگر کمشنروں کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران کیے گئے اقدامات پر ان کے خلاف کوئی فوجداری یا دیوانی مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تحفظ نہ صرف موجودہ بلکہ سابق کمشنروں پر بھی نافذ ہوتا ہے، یعنی عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں رہے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ قانون سپریم کورٹ کے ایک سابق فیصلے کے بعد لایا گیا تھا، جس میں الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور تقرری کے طریقۂ کار پر زور دیا گیا تھا۔ اب اسی عدالت میں اس قانون کی آئینی جانچ ہونے جا رہی ہے، جسے جمہوریت کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ مانا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

Nitin Navin seeking his own identity in the shadow of Yogi: یوگی کے سائے میں اپنی سیاسی شناخت تلاش کرتے نتن نوین

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین آج گورکھپور پہنچے، جہاں…

8 hours ago

Mumbai Airport Flights: ممبئی سے نوی ممبئی منتقل ہوں گی 14 بین الاقوامی پروازیں، غیر ملکی ایئرلائنز نے ’ڈیسٹنیشن بیسڈ‘ منصوبے کی حمایت کی

ممبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل-1 کی ازسرنو تعمیر کے پیش نظر 14 بین الاقوامی مقامات کے…

9 hours ago

PM Modi Critical Minerals Processing Scheme: اب بھارت میں ہی ہوگا لیتھیم اور نکل کی پروسیسنگ، مودی کابینہ نے 2,814 کروڑ روپے کی اسکیم کو دی منظوری

مرکزی حکومت نے ’اہم معدنیات کی پروسیسنگ کو فروغ دینے کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات…

10 hours ago

PM Modi Calls Sharad Pawar Health Update: اسپتال سے ڈسچارج ہوئے شرد پوار، وزیر اعظم مودی نے آرام کرنے کا دیا مشورہ

وزیر اعظم نریندر مودی نے این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار کو…

11 hours ago