قومی

India eyes to add missiles: ہندوستان آئی فونز کے بعد میزائل، ہیلی کاپٹرز اور جنگی جہازوں کو اپنی برآمدی فہرست میں شامل کرنے کا خواہشمند

ہندوستان، جو حال ہی میں آئی فونز کی برآمد میں نمایاں کامیابی حاصل کر چکا ہے، اب اپنی دفاعی صنعت کو عالمی منڈی میں متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایک نئی حکومتی پالیسی کے تحت، ہندوستان اپنے تیار کردہ میزائلوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی جہازوں کی برآمد کو فروغ دینے کے لیے سستے قرضوں کی پیشکش کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد ہندوستان کو دفاعی ساز و سامان کے شعبے میں ایک بڑا کھلاڑی بنانا اور عالمی منڈی میں اس کے اثر و رسوخ کو بڑھانا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ ہندوستانی دفاعی صنعت کی تکنیکی صلاحیتوں کو بھی اجاگر کرے گی۔

حکومت نے اس منصوبے کے تحت ترقی پذیر ممالک کو ہدف بنایا ہے جو اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے سستے اور قابل اعتماد ہتھیاروں کی تلاش میں ہیں۔ ہندوستان کے تیار کردہ دفاعی ساز و سامان، جیسے کہ برہموس میزائل، دھرو ہیلی کاپٹر، اور تیجس لڑاکا طیارہ، پہلے ہی بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ سستے قرضوں کی پیشکش سے ان ممالک کے لیے ہندوستانی ہتھیاروں کی خریداری آسان ہو جائے گی، جس سے ہندوستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، یہ پالیسی ہندوستان کے “میک ان انڈیا” پروگرام کو بھی تقویت دے گی، جو مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔

ہندوستانی دفاعی صنعت کے ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام نہ صرف معاشی فوائد لائے گا بلکہ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی کو بھی تقویت بخشے گا۔ سستے قرضوں کے ذریعے ہتھیاروں کی برآمد سے ہندوستان اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کر سکے گا۔ مثال کے طور پر، جنوب مشرقی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک ہندوستانی ہتھیاروں کے ممکنہ خریدار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ پالیسی ہندوستان کو روس، امریکہ اور یورپی ممالک جیسے بڑے ہتھیار برآمد کنندگان کے مقابلے میں ایک سستا اور قابل اعتماد متبادل کے طور پر پیش کرے گی۔

تاہم، اس پالیسی کو عملی جامہ پہنانے میں کئی چیلنجز بھی ہیں۔ بین الاقوامی ہتھیاروں کی منڈی میں سخت مقابلہ ہے، اور ہندوستان کو اپنی مصنوعات کے معیار اور بعد از فروخت سروس کو بہتر بنانا ہوگا۔ مزید برآں، ہتھیاروں کی برآمد سے متعلق عالمی قوانین اور پابندیاں بھی ہندوستان کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس کے باوجود، حکومت پرعزم ہے کہ وہ ان چیلنجز سے نمٹ کر اپنی دفاعی صنعت کو عالمی سطح پر ایک مضبوط مقام دلائے گی۔

یہ پالیسی ہندوستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرے اور اپنی معیشت کو مزید متنوع بنائے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو ہندوستان نہ صرف آئی فونز بلکہ میزائل، ہیلی کاپٹرز اور جنگی جہازوں جیسے اعلیٰ تکنیکی مصنوعات کا ایک بڑا برآمد کنندہ بن سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ ہندوستان کا عالمی اثر و رسوخ بھی بڑھے گا، جو اسے دفاعی اور سفارتی شعبوں میں ایک اہم قوت بنائے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

Ujjain Shahi Masjid Violence: اُجّین میں شاہی مسجد کے حصے کو ہٹانے پر ہنگامہ، پتھراؤ کے بعد آنسو گیس، شہر قاضی نے کی امن کی اپیل

اُجّین: مدھیہ پردیش کے اُجّین میں شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک چوڑی کرنے…

1 hour ago

Bihar Flood: نیپال میں موسلا دھار بارش سے بہار میں سیلاب کا خطرہ، باگمتی خطرے کے نشان سے 2 میٹر اوپر، مظفرپور کے کئی گاؤں زیرِ آب

نیپال کے پہاڑی اور ترائی علاقوں میں مسلسل بارش کے بعد بہار کے میدانی علاقوں…

1 hour ago