قومی

$200 Billion Yearly Could Flow to India Amid Global Shift: بدلتی ہوئی عالمی صورت حال میں بھارت کو مل سکتی ہے 200 ارب ڈالر سالانہ کی غیرملکی سرمایہ کاری

عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیوں کے سبب سرمایہ کاری کے رجحانات بھی تیزی سے بدل رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی، چین سے تجارتی کشیدگی اور روس پر عالمی پابندیوں نے سرمایہ کاروں کو نئی، مستحکم اور ’’دوستانہ‘‘ معیشتوں کی تلاش پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک حالیہ تجزیے کے مطابق اگر غیر ملکی سرمایہ کار اپنے امریکی مالیاتی اثاثوں میں سے صرف 10 فیصد نکال لیتے ہیں، تو امریکہ سے 4 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ منتقلی ممکن ہے۔

یہ سرمایہ کاری غالباً اپنے اپنے ملکوں یا متبادل ابھرتی ہوئی معیشتوں میں منتقل ہو گی، جن میں بھارت سرِفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر اس رقم کا صرف 5 فیصد بھی بھارت کا رخ کرے، تو بھارت کو سالانہ 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل ہو سکتی ہے۔ امریکہ اگرچہ عالمی جی ڈی پی کا صرف 15 فیصد ہے، لیکن اس کی اسٹاک مارکیٹس دنیا کے 50 فیصد مارکیٹ کیپیٹلائزیشن کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سرمایہ کار اب صرف منافع پر نہیں، بلکہ عالمی اخلاقی و قانونی اصولوں، جغرافیائی سیاست اور اعتماد کے توازن کو مدنظر رکھ رہے ہیں۔

بھارت نہ صرف ایک بڑی ابھرتی ہوئی معیشت ہے بلکہ اسے عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد، جمہوری اور دوستانہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ ایپل جیسی بڑی کمپنیوں نے پہلے ہی بھارت میں پیداوار منتقل کرنے کے منصوبے شروع کر دیے ہیں۔ تاہم بھارت-پاکستان حالیہ کشیدگی جیسے واقعات سرمایہ کاری کے تسلسل پر اثر ڈال سکتے ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا سیاسی استحکام، نوجوان افرادی قوت اور تکنیکی ترقی اسے ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ بھارت میں سالانہ غیر ملکی سرمایہ کاری اس وقت جی ڈی پی کا صرف 2.5 فیصد ہے، جب کہ اسے کم از کم 5 فیصد تک لے جانے کی ضرورت ہے، جو بھارت کی 4 ٹریلین ڈالر معیشت کے لیے 200 ارب ڈالر سالانہ کی صورت میں ممکن ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Punam Raut Quits International Cricket: پونم راوت نے بین الاقوامی کرکٹ کے تمام فارمیٹس سے ریٹائرمنٹ کا کیا اعلان

پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…

2 hours ago