مشرق وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی نے دنیا بھر کے حالات بدل کر رکھ دیے ہیں۔ اس جنگ کے اثرات اب بھارت کے گھروں اور کارخانوں تک بھی پہنچنے لگے ہیں، کیونکہ عالمی توانائی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ ملک کے کئی حصوں سے ایل پی جی (LPG) اور قدرتی گیس کی قلت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث حکومت کو فوری طور پر گیس کی تقسیم کے قواعد میں بھی تبدیلی کرنی پڑی ہے۔تاہم اسی بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک راحت بھری خبر سات سمندر پار سے سامنے آئی ہے۔
کینیڈا نے مدد کا ہاتھ بڑھایا
بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو دیکھتے ہوئے اب کینیڈا ایک قابلِ اعتماد دوست کے طور پر سامنے آیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے پیشکش کی ہے کہ ان کا ملک بھارت کو مائع قدرتی گیس (LNG) فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ کارنی نے اپنے ملک کو ایک “انرجی سپر پاور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی توانائی کی طلب سال 2040 تک دوگنی ہونے والی ہے اور کینیڈا اس سفر میں بھارت کا اسٹریٹیجک شراکت دار بننا چاہتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کارنی نے واضح کیا کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کی وجہ سے قطر جیسے ممالک سے ہونے والی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے باعث نہ صرف گیس کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں بلکہ سپلائی کا پورا نظام بھی بگڑ گیا ہے۔ ایسے میں کینیڈا، جو دنیا میں کم کاربن اخراج والی اور صاف ایل این جی پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، بھارت کے لیے ایک بہترین متبادل ثابت ہو سکتا ہے۔
صرف گیس ہی نہیں، معدنیات پر بھی نظر
کینیڈا کی توجہ صرف گیس سپلائی تک محدود نہیں ہے۔ مارک کارنی نے بھارت کے بلند اہداف والے قابلِ تجدید توانائی پروگرام اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں بھارت کو صاف ٹیکنالوجی اور جوہری توانائی کے لیے اہم معدنیات کی ضرورت ہوگی۔ اس معاملے میں کینیڈا کافی مالا مال ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 40 فیصد مائننگ کمپنیاں وہیں درج ہیں۔ بھارت نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ کینیڈا سے خام تیل، یورینیم اور ایل این جی سمیت تمام ضروری وسائل خریدنے کے لیے تیار ہے۔
حکومت کا مؤقف
بھارت کے وزیر پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے واضح کیا ہے کہ ملک کی توانائی سلامتی سب سے اہم ہے۔ ان کے مطابق بھارت اب صرف مشرقِ وسطیٰ پر انحصار نہیں کر سکتا۔ حکومت نئے درآمدی ذرائع تلاش کر رہی ہے تاکہ جنگ جیسے حالات میں بھی گھروں اور صنعتوں کو ایندھن کی فراہمی متاثر نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کئی اقدامات کیے ہیں تاکہ مستقبل میں قلت کو کم کیا جا سکے اور متبادل راستوں کے ذریعے سپلائی کو برقرار رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
پونم نے جمعرات کو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے لکھا، ’’کافی…
اتر پردیش اور بہار سمیت 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر…
دہلی پولیس کی ڈی سی پی پی آر او نیہا یادو نے بتایا کہ این…
موبائل پر کال آتے ہی دکھائی دے گا کال کرنے والے کا نام، نئے نظام…
547 مقدمات درج، 182 کروڑ روپے سے زائد کی منشیات ضبط ہوئی ہیں اور منشیات…
راہل گاندھی کی حامی نیہا بورا نے کہا کہ ’بنگلہ دیش نے ہمیں ایک راستہ…