نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بدھ کے روز کہا کہ لوک سبھا کے اسپیکر کو ہٹانے کے لیے اپوزیشن کی جانب سے قرارداد پیش کرنا پارلیمانی سیاست کے لیے افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کے ارکان کو قواعد و ضوابط کے مطابق ہی اپنی بات رکھنی چاہیے۔ امت شاہ نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی قرارداد پر دو روزہ بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ایک غیر جانبدار نگہبان ہوتا ہے جو حکومت اور اپوزیشن دونوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ تقریباً چار دہائیوں کے بعد لوک سبھا کے اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد لائی گئی ہے۔ یہ پارلیمانی سیاست اور اس ایوان کے لیے افسوسناک ہے۔‘‘
ایوان بازار نہیں،قواعد وضوابط کی پاسداری ضروری
وزیر داخلہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی باہمی اعتماد کی بنیاد پر چلتی ہے اور اسپیکر کی ذمہ داری غیر جانبدار رہ کر ایوان کی کارروائی چلانا ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اس ایوان کے اپنے قواعد ہیں جن کے مطابق اسپیکر اجلاس چلاتے ہیں۔ یہ ایوان کوئی بازار نہیں ہے جہاں کوئی بھی جیسے چاہے بولے۔ ارکان کو قواعد اور طریقہ کار کے مطابق ہی گفتگو کرنی چاہیے۔‘‘ امت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس اقدام سے بھارت کی جمہوریت کی ساکھ پر سوال اٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین نے اسپیکر کو ایک ثالث کا کردار دیا ہے اور اگر اسی ثالث پر شک کیا جائے تو جمہوری نظام کمزور ہوتا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی طویل عرصے تک اپوزیشن میں رہی، لیکن اس نے کبھی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پیش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں میں لوک سبھا میں اسپیکر کے خلاف تین بار عدم اعتماد کی قرارداد پیش کی گئی، لیکن نہ ہی بی جے پی اور نہ ہی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے کبھی ایسا قدم اٹھایا۔ اس بحث میں ایوان کے 42 سے زائد ارکان نے حصہ لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…