مرکزی وزیر اشونی ویشنو (فائل فوٹو)
مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس اور آئی ٹی اشونی ویشنو نے کہا کہ ہندوستان آئندہ پانچ سالوں میں دنیا میں سب سے بڑا سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ ہب بن جائے گا، جس میں مرکز یقینی بنائے گا کہ اس کے لئے صحیح ایکوسسٹم بنایا جائے۔
دسمبر2021 میں مرکز نے ایک فیبریکیشن پلانٹ کے ساتھ 10 بلین سیمی کنڈکٹر تعمیری منصوبہ کا اعلان کیا تھا، جسے جلد ہی منظوری ملنے کی امید ہے۔
انڈین ایکسپریس کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ آنے والے 5-4 سالوں میں ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا سیمی کنڈکٹرمینوفیکچرنگ ہب بن جائے گا، اگرآپ کے پاس صحیح ایکو سسٹم ہو۔ ہماری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ صحیح ماحولیاتی نظام بنایا جائے۔“
اشونی ویشنو نے کہا کہ حالانکہ اس راستے میں کچھ چیلنجزہیں، جنہیں ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ شروع کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لئے کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہوگی۔ “جب ہم ایک نئی صنعت بنا رہے ہوتے ہیں، لوگوں میں انتظار کرنے اور دیکھنے کا رجحان ہوتا ہے، جو کہ بہت فطری ہے۔ ”جب ہم ایک نئی صنعت کھڑی کر رہے ہوتے ہیں تو لوگوں کا انتظار کرنا اور دیکھنے کا رجحان ہوتا ہے، جو بہت فطری ہے۔“
شمالی کوریا کا یہ میزائل تجربہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے دوران بھی ہوا…
بھاونا پٹیل کی کھیلوں کے میدان میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں انہیں 2021 میں…
وزیر اعظم مودی کی اس پوسٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سورَو داس نے سوشل…
2014 میں صرف پانچ شہروں میں 248 کلومیٹر میٹرو لائنیں تھیں، اب روزانہ ایک کروڑ…
آئی آر جی سی کی بحریہ کی الیکٹرانک وارفیئر یونٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ…
جمعرات کو بی جے پی کی ’لوک تنتر بچاؤ، اَراجکتا ہٹاؤ‘ مہم کے پہلے مرحلے…