قومی

مہاراشٹر میں 15 اگست کو سلاٹرہاوس اور گوشت کی فروخت پر پابندی سے سیاسی گھمسان، اجیت پوار نے کیا اعتراض، احتجاج کرنے کی دھمکی

یوم آزادی کے موقع پرمہاراشٹرکے 6 شہروں میں گوشت اورمٹن کی فروخت پرپابندی کے فیصلے نے سیاسی ہلچل مچا دی ہے۔ کلیان ڈومبیولی، امراوتی، ناگپور، چھترپتی سمبھاجی نگر، مالیگاؤں اورجلگاؤں کی میونسپل کارپوریشنوں اورمیونسپل کارپوریشنوں نے 15 اگست کوگوشت کی فروخت اورسلاٹرہاوس بند رکھنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ ادھوٹھاکرے کی شیوسینا، شرد پوارکی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، سماج وادی پارٹی، مہاراشٹرنونرمان سینا، اے آئی ایم آئی ایم، کانگریس اوردیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلے کے خلاف ناراضگی ظاہرکی ہے۔ یہاں تک کہ مہایوتی حکومت میں شامل نائب وزیراعلیٰ اجیت پواراس حکم سے متفق نہیں ہیں۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کی قیادت میں بی جے پی اورنائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کی شیوسینا نے گوشت پرپابندی کے فیصلے کی حمایت کی ہے، جس کی وجہ سے اس معاملے پرسیاسی ماحول مزید گرم ہوگیا ہے۔ کھٹیک برادری نے خبردارکیا ہے کہ اگر14 اگست تک حکم واپس نہ لیا گیا تو15 اگست کو زبردست احتجاج کیا جائے گا۔ انتظامیہ فی الحال اپنے فیصلے پرقائم ہے، جبکہ تمام فریقین کے بیانات کی وجہ سے تنازعہ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اجیت پوارگوشت کی فروخت پرپابندی پر ناراض

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں، 15 اگست اور26 جنوری، گنیش چترتھی جیسے دونوں مہا نگرپالیکا علاقے میں گوشت کاٹنے (ذبح کرنے) اوربیچنے پرپابندی ہے۔ میونسپل کارپوریشن نے ہرسال 15 اگست کوگوشت کی کٹائی اورفروخت پر پابندی عائد کردی ہے۔ ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے اس پابندی پراعتراض کیا ہے۔ اجیت پوارنے کہا کہ 15 اگست، 26 جنوری جیسے دنوں میں گوشت کی فروخت پر پابندی لگانا درست نہیں ہے۔ کسی بھی مذہبی دن پرپابندی لگانا درست ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عقیدہ (شردھا) کا معاملہ آتا ہے توایسی پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ مثال کے طورپر، اشاڑھی اکادشی، مہا شیوراتری یا مہاویرجینتی دونوں پرپابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ ملک میں کچھ لوگ سبزی کھانے والے (شاکا ہاری) ہیں اورکچھ نان ویجیٹیرین (گوشت کھانے والے) ہیں۔ اگرآپ مہاراشٹر کے کونکن علاقے میں جائیں تووہاں پرسبزیاں بناتے وقت بھی نان ویج یعنی گوشت کا  استعمال کیا جاتا ہے۔

اجیت پوار نے گوشت پر پابندی پر کہی یہ بات

انہوں نے کہا کہ یہ وہ خوراک ہے، جس پر یہ لوگ نسل درنسل چل رہے ہیں۔ سورج اورزمین کے وجود میں آنے کے بعد سے یہ ان کی خوراک رہی ہے۔ اس لیے انہیں ان کی کھانے کی عادتوں سے روکنا درست نہیں اوراہم میٹرو شہروں میں کئی ذات اورمذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا، اگرکوئی جذباتی (مذہب سے متعلق) مسئلہ ہوتولوگ ایک دن کی پابندی کوقبول کرتے ہیں، لیکن اگرآپ مہاراشٹرڈے، 15 اگست اور26 جنوری پرپابندیاں لگانا شروع کر دیں، توحالات مشکل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگردیہی علاقوں کی بات کریں تووہاں کئی باربکرے ذبح کرکے تہوارمنائے جاتے ہیں۔ میں ذاتی طورپرسمجھتا ہوں کہ لوگوں کے جذبات اہم ہیں، لیکن جب لوگوں کے جذبات اورایمان کا معاملہ سامنے آئے تو اس موضوع کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہئے۔ اب اگرہم قبائلی معاشرے کی بات کریں توان کے کھان پان کی عادات زیادہ نان ویج ہی ہوتا ہے۔

 بھارت ایکسپریس اردو۔

 

Nisar Ahmad

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

7 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

7 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

8 hours ago