قومی

پریم چند کی ذہن سازی میں ملک کے سیاسی حالات کے ساتھ گھریلوماحول کا بھی اہم کردار، غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام جشن غالب تقریبات کی افتتاحی تقریب میں پروفیسرعلی احمد فاطمی کا اظہارخیال

نئی دہلی: منشی پریم چند نے ہوش سنبھالا توسرشار، رسوا اوریلدرم وغیرہ کے ذریعہ ماحول بن چکا تھا، سیاسی، سماجی عناصرابھی ابھی ادب میں داخل ہوئے تھے، لیکن پھربھی پرانی طرز تحریرکا کہرا ابھی باقی تھا۔ دراصل پریم چند کوپریم چند بنانے میں اس وقت کے ہنگامی ماحول کے علاوہ ان کا اپنا گھریلوماحول بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ بنارس کا لمہی گاﺅں اورنچلے متوسط طبقے کی چھاﺅں، سوتیلی ماں کی حکومت، کسانوں اورمزدوروں کی تباہ حالی، کم عمری میں ذمہ داریوں کا بوجھ ان سب عناصرنے مل کرپریم چند کے ذہن کوایک سانچے میں ڈھالا۔ ان خیالات کا اظہارپروفیسرعلی احمد فاطمی نے غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام بین الاقوامی سمینار’منشی پریم چند: ذہن زمانہ اورآرٹ‘ کا کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹررخشندہ جلیل نے کیا مہمانوں کا استقبال

معروف مترجم اورادبی تاریخ نویس ڈاکٹررخشندہ جلیل نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ غالب انسٹی ٹیوٹ ہرسال غالب کے یوم ولادت کی مناسبت سے بین الاقوامی سمینارکا انعقاد کرتا ہے اوراس موقع پرسمینارکے لیے جن موضوعات کا انتخاب ہوتا ہے ان میں اپنے زمانے کی سمت ورفتارکوبھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ پریم چند پرہندی اوراردومیں جوکچھ لکھا گیا اس کا تجزیہ اورنئے گوشوں کی تلاش اس سمینارکا بنیادی مقصد ہے۔ سمینارکا افتتاح ہندی کے معروف ادیب وشاعراشوک واجپئی نے کیا۔ انہوں نے کہا پریم چند بلا شبہہ عظیم فنکارہیں، ان کی تمام تحریریں اگرپیش نظرہوں تووہ مذہب نسل وغیرہ کی تفریق سے بالاترنظرآئیں گے۔ ان کا اصل مسئلہ انسانیت اوراس کے تقاضے وفرائض ہیں۔

پریم چند کا مطالعہ زندگی کے کسی نئے تجربے کا احساس دلاتا ہے: پروفیسرقدوائی

غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسرصدیق الرحمٰن قدوائی نے صدارتی تقریرکے دوران کہا کہ ہم اپنے اسکول کے زمانے سے پریم چند کوپڑھ رہے ہیں اورآج بھی ان کا مطالعہ زندگی کے کسی نئے تجربے کا احساس دلاتا ہے۔ اب میں پریم چند کوکسی اورنظرسے دیکھتا ہوں اوریقیناً ادبی معاشرے کے زاویوں میں بھی تبدیلی آئی ہوگی، اس تبدیلی کومذاکرے کا موضوع بنانا ہماری اجتماعی تفہیم کوآگے بڑھائے گا۔ پروفیسرآلوک رائے (پریم چند کے پوتے) نے افتتاحی اجلاس میں بطورمہمان خصوصی شرکت کی۔ انھوں نے کہا پریم چند کوہم یہاں یاد کرنے جمع ہوئے ہیں، اس اعتبارسے ہماری آمد اورشرکت ایک تاریخی لمحے اورموقع کی گواہ بھی بننے والی ہے۔ جلسے توہوتے ہی رہتے ہیں، مگرپریم چند پرانٹرنیشنل سمینارکا ہونا خود ہمیں داخلی طورپرحوصلہ دیتا ہے اورمحسوس ہوتا ہے کہ جیسے پریم چند ہمارے درمیان اپنی سادگی اورسچائی کے ساتھ موجود ہیں۔ پروفیسرپروشوتم اگروال نے اس جلسے میں بطورمہمان ذی وقارشرکت کی۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند نے زمانے کوجس نظرسے دیکھا وہ پہلی نظرمیں بہت عام لگتا ہے، لیکن اس میں گہرائی بہت ہے۔ ان کے جواحسانات ہمارے ادب اورتہذیب پرہیں، ان کی شکرگزاری اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم نئے سرے سے ان کی طرف متوجہ ہوں۔ پروفیسراپوروا نند نے کہا پریم چند کی تخلیقات میں کسان، مزدور، عورت اورپسماندہ طبقوں کومرکزیت حاصل ہے۔ ان کوآسان لکھنے والا یا فقط اخلاقیات کا رہبرکہہ کرٹالنا مناسب نہیں ہے بلکہ وہ اقتدار، استحصال اورپسماندہ طبقے کے مسائل کوفنی ہنرمندی سے پیش کرتے ہیں۔

غالب انسٹی ٹیوٹ کی نئی مطبوعات کا اجرا، شام غزل کا اہتمام

غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹرادریس احمد نے اظہارتشکرکے دوران کہا غالب تقریبات جوہرسال دسمبرمیں ہوتی ہیں، اس کے موضوعات ادبی دنیا میں نئے مباحث کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ پریم چند پردلی میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا انٹرنیشنل سمینارہے۔ اس کا عنوان بھی یعنی پریم چند، ذہن،زمانہ اورآرٹ بڑی حد تک پریم چند کی تخلیقات اورزمانے سے ان کے رشتے کوظاہر کرتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اپنی وراثت کونئے سرے سے دیکھنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی نئی مطبوعات ’فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے‘، ’غالب کے خطوط انتخاب‘ مرتبہ پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی،’پنڈت رتن ناتھ سرشار: شخص عہداورتخلیقی جہات‘ مرتبہ ڈاکٹرادریس احمد، ’پروفیسرعبدالستاردلوی: محقق اوردانشور‘، ’خواجہ حیدرعلی آتش اوران کا عہد‘، ’غالب کے تین اہم معاصرین صہبائی آزردہ اورشیفتہ‘، ’جنوبی ہند میں غالب شناسی‘، ’غالب شناسی عہد حاضرکے آئینے میں‘، مرتبہ ادریس احمد، ’غالب کی شاعری میں نشاط وغم‘ مرتبہ پروفیسرثروت خان، ’پریم چند: تنقیدی تناظرات‘ مرتبہ پروفیسرسرورالہدیٰ۔ غالب نامہ کے دوشمارے، جولائی 2025 اورجنوری 2026 ڈائری، کلینڈر2026 ۔ غالب تقریبات کے موقع پرمنشی پریم چند کی تصویروں اوران کی مطبوعات کی نمائش کا افتتاح پریم چند کے پوتے پروفیسرآلوک رائے کے دست مبارک سے ہوا۔ افتتاحی اجلاس کے بعد شام غزل کا اہتمام ہوا، جس میں ملک کی معروف غزل سرا ودیا شاہ نے غالب اوردوسرے اہم شعرا کا کلام پیش کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Chief Minister’s Breakfast Scheme: تمل ناڈو کے اسکولوں میں اب طلبہ کو ملے گا ناشتہ، وزیراعلیٰ وجے نے بھی بچوں کے ساتھ کھایا، ویڈیو وائرل

تمل ناڈو حکومت نے پیروُنتھلایور کامراج ناشتہ اسکیم کے بہتر نفاذ کے لیے حکام کو…

51 minutes ago