قومی

West Bengal Election 2026 Voting LIVE: آٹھ ریاستوں کی 142 سیٹوں پر دوپہر ایک بجے تک 61.11 فیصد ووٹنگ

نئی دہلی: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا آغاز ہو چکا ہے، اور صبح سویرے ہی پولنگ بوتھوں کے باہر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ پہلے مرحلے کی طرح اس بار بھی ووٹنگ کا نیا ریکارڈ قائم ہو سکتا ہے۔ انتخابی عمل کے اس اہم مرحلے میں ریاست کی آئندہ حکومت کی سمت طے ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے تحت ریاست کے دارالحکومت کولکاتا سمیت چھ اضلاع کی 142 اسمبلی نشستوں پر ووٹنگ جاری ہے۔ ان اضلاع میں مشرقی بردھمان، ہگلی، جنوبی 24 پرگنہ، شمالی 24 پرگنہ اور ہاوڑہ شامل ہیں۔ ان تمام علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ووٹنگ کا عمل پرامن اور شفاف طریقے سے مکمل ہو سکے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق اس مرحلے میں 3 کروڑ 21 لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ کل رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3,21,73,837 ہے، جن میں 1,64,35,627 مرد، 1,57,37,418 خواتین اور 792 تھرڈ جینڈر ووٹرز شامل ہیں۔ اس مرحلے میں مجموعی طور پر 1,448 امیدواروں کی قسمت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں 93.19 فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد دوسرے مرحلے میں بھی بھاری ووٹنگ کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔اس مرحلے کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی نشست بھوانی پور ہے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا مقابلہ سویندو ادھیکاری سے ہے۔ یہ نشست خاصی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اسے 2021 کے نندی گرام انتخابات کی طرح ایک بڑی سیاسی جنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں سویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو شکست دی تھی۔

ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر 41,001 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں 39,301 مرکزی جبکہ 1,700 معاون مراکز شامل ہیں۔ تمام پولنگ بوتھوں پر ویب کاسٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ ہر سرگرمی پر نظر رکھی جا سکے۔ اس کے علاوہ مرکزی سکیورٹی فورسز کی 2,407 کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں، جبکہ ریاستی پولیس اور کولکاتا پولیس کے اہلکار بھی ڈیوٹی پر موجود ہیں۔سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث اب تک ووٹنگ کا عمل زیادہ تر پرامن بتایا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا، جس کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مغربی بنگال میں آئندہ حکومت کس جماعت کی ہوگی۔

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Five Major Tragedies: تقریباً 24 گھنٹوں میں 5 خوفناک حادثے، 50 سے زائد اموات: کولکاتا سے گوالیار تک، بے قابو رفتار نے مچائی تباہی

نوراتری کے دوران مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں پیش آنے والے…

1 hour ago

Kolkata Durga Pandal Stampede: کولکاتا درگا پنڈال بھگدڑ معاملے میں پولیس نے درج کیا مقدمہ، منتظمین سمیت 7 افراد گرفتار

وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومت ہر مہلوک کے خاندان کو…

3 hours ago

Protests in Italy: اٹلی میں حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد، میلونی نے کہا-  پُرامن احتجاج کا احترام، تشدد برداشت نہیں

فرانس اور اسپین میں ہونے والی تحریکوں سے متاثر ہوکر ان دنوں اٹلی میں مختلف…

5 hours ago

Gwalior Tragic Incident: گوالیار میں بے قابو ٹرک کا قہر، شیتلا ماتا مندر کے قریب کئی دکانوں سے ٹکرایا، 12 افراد ہلاک، 5 کی حالت تشویش ناک

تاریخی شیتلا ماتا مندر میں نوراتری کے دوران لاکھوں عقیدت مند درشن کے لیے پہنچتے…

5 hours ago