نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے درمیان ایک اہم سفارتی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کے وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے پہلے تہذیبی مکالمہ فورم میں شرکت کی دعوت دی ہے۔ یہ فورم 20 سے 22 نومبر تک نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ بھارت نے اس فورم میں ایس سی او کے تمام 10 رکن ممالک کو مدعو کیا ہے۔مئی 2025 میں پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے تھے۔ اس فوجی کارروائی کے بعد کسی سینئر پاکستانی وزیر کو بھارت مدعو کیے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔اگر اورنگزیب خان کھچی اس فورم میں شرکت کرتے ہیں تو یہ مئی 2023 کے بعد کسی سینئر پاکستانی وزیر کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل پاکستان کے اس وقت کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے گوا میں منعقدہ ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔
راجناتھ سنگھ نے دوشنبے میں کیا تھا فورم کا اعلان
دفاعی وزیر راجناتھ سنگھ نے 20 اکتوبر کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او سربراہانِ حکومت کی کونسل کے اجلاس کے دوران اس فورم کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بھارت سال کے اختتام پر پہلے ایس سی او تہذیبی مکالمہ فورم کی میزبانی کرے گا اور تنظیم کے تمام رکن ممالک کو شرکت کی دعوت دیتا ہے۔راجناتھ سنگھ نے کہا تھا، ’’اس سال کے اختتام پر بھارت پہلے ایس سی او تہذیبی مکالمہ فورم کی میزبانی کرے گا۔ ہم ایس سی او کے تمام ممالک کو اس میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔‘‘اس فورم کا مقصد رکن ممالک کے درمیان ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانا اور ایک دوسرے کی تہذیب، روایات اور ثقافتی ورثے کو بہتر طور پر سمجھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف دوہرے معیار پر راجناتھ سنگھ کی تنبیہ
دوشنبے میں اجلاس کے دوران راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی کے خلاف سخت اور مستقل مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے میں کسی بھی طرح کا دوہرا معیار نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا، ’’دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گردوں کی مالی مدد کرنے، ان کی حمایت کرنے یا انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والوں کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گردی کے پورے نظام کو مضبوطی اور اجتماعی کوششوں کے ساتھ ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب بھارت اور پاکستان کے درمیان دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
پاکستان کے پاس ایس سی او کی صدارت
پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی مدت کے لیے گردشی صدارت سنبھالی تھی۔ پاکستان نے بشکیک میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد یہ ذمہ داری کرغزستان سے حاصل کی تھی۔شنگھائی تعاون تنظیم کے 10 رکن ممالک میں بیلاروس، چین، بھارت، ایران، قزاقستان، کرغزستان، پاکستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ بھارت 2017 میں اس تنظیم کا مکمل رکن بنا تھا۔افغانستان اور منگولیا کو تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل ہے، جب کہ اس کے علاوہ 15 ممالک مکالماتی شراکت دار ہیں۔نئی دہلی میں ہونے والے تہذیبی مکالمہ فورم میں پاکستان کی ممکنہ شرکت کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کے تناظر میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستانی وزیر کی شرکت کے بارے میں حتمی تصدیق سامنے آنا ابھی باقی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…
والٹز کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پریلا آگے بڑھے اور…
یہ اعزاز 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے…
سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…