قومی

12th BRICS Parliamentary Forum: بارہویں برکس پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی وفد وطن واپس روانہ

نئی دہلی: دو روزہ 12ویں برکس پارلیمانی فورم میں شرکت کے بعد ایران سے آیا پارلیمانی وفد بدھ کی صبح وطن واپس روانہ ہوگیا۔ لوک سبھا کے رکن پروین کھنڈیلوال نے نئی دہلی میں ایرانی وفد سے الوداعی ملاقات کی اور اسے رخصت کیا۔بھارت میں ایرانی سفارت خانے نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دی۔ سفارت خانے نے کچھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا پارلیمانی وفد آج صبح نئی دہلی سے تہران کے لیے روانہ ہوگیا۔ اس موقع پر لوک سبھا کے رکن پروین کھنڈیلوال بھی وفد کو رخصت کرنے کے لیے موجود تھے۔ایرانی وفد کی قیادت ایران کی اسلامی مشاورتی اسمبلی کے پریزیڈیم کے رکن ڈاکٹر احمد نادری نے کی۔ وفد میں بھارت۔ایران پارلیمانی دوستی گروپ کے سربراہ اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے نائب صدر عباس مقتدائی خورسگانی بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ بھارت۔ایران پارلیمانی دوستی گروپ کے پہلے نائب صدر اور صنعت و کان کنی کمیٹی کے سربراہ علی حدادی نے بھی وفد میں شرکت کی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھی ہونا تھا شریک

ابتدائی طور پر ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو اس کانفرنس میں شرکت کرنا تھی، لیکن بعد میں ان کا دورہ منسوخ ہوگیا۔ایرانی سفارت خانے نے 24 اکتوبر، ہفتے کو جاری بیان میں کہا تھا کہ غیر متوقع حالات کی وجہ سے محمد باقر قالیباف بھارت نہیں آ سکیں گے۔ ان کی جگہ ایرانی پارلیمانی وفد کانفرنس کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔

نئی دہلی میں ہوا 12ویں برکس پارلیمانی فورم کا انعقاد

بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کمپلیکس کے آئین سدن میں کیا گیا۔ دو روزہ کانفرنس مشترکہ اعلامیے کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔کانفرنس میں عالمی حکمرانی کے نظام میں گلوبل ساؤتھ کی شراکت بڑھانے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات، دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال اور پائیدار ترقی جیسے اہم موضوعات پر مشترکہ عزم کا اظہار کیا گیا۔

جنگ نہیں، بات چیت اور تعاون سے مسائل کا حل ممکن: اوم برلا

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی چیلنجوں کا مستقل حل جنگ اور تصادم میں نہیں، بلکہ بات چیت، امن اور تعاون میں پوشیدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت علاقائی تنازعات، اقتصادی غیر یقینی صورتحال، تجارتی کشیدگی، دہشت گردی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان مسائل کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہتے، اس لیے بات چیت، سفارت کاری اور باہمی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئے ہیں۔کانفرنس کے اختتام پر اوم برلا نے 2027 کے لیے برکس پارلیمانی فورم کی صدارت چین کے حوالے کردی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India invites Pakistan for SCO forum in Delhi: آپریشن سندور کے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم میں شرکت کی دعوت دی

پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…

2 hours ago

Cyclone ‘Arnab’: آندھرا پردیش سے ٹکرایا سمندری طوفان ’ارنَب‘، 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں ہوائیں، 50 ٹرینیں اور 21 پروازیں منسوخ

سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…

3 hours ago