نئی دہلی : اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز اور کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پریلا کے درمیان منگل کو شدید تلخ کلامی ہوئی۔ کیوبا کے وزیر خارجہ اپنی تقریر کے دوران امریکی سفیر کے پوڈیم کے قریب پہنچ گئے اور ان پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ اس کے جواب میں والٹز نے انہیں پیچھے ہٹنے کی سخت ہدایت دی۔ یہ واقعہ کیوبا پر امریکی اقتصادی پابندیوں کی مذمت سے متعلق اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے قبل پیش آیا۔ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر عائد پابندیوں کو جدید دور کی دنیا کی سب سے طویل عرصے سے جاری اقتصادی اور تجارتی پابندیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔برونو روڈریگیز پریلا کا الزام ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ وہ ان پابندیوں کی مذمت میں ووٹ نہ دیں۔ ان کے مطابق، ایندھن کی حالیہ پابندیوں نے کیوبا کے صحت کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جو کبھی اپنی بہتر طبی سہولیات کے لیے جانا جاتا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حالات میں بچوں کی اموات کی شرح دوگنی ہو گئی ہے اور کیوبا کے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
امریکی سفیر نے کیوبا کی قیادت کو نشانہ بنایا
#WATCH | United Nations | An argument broke out between US Ambassador to the United Nations Mike Waltz and Cuban Foreign Affairs Minister Bruno Rodríguez Parrilla
United States Ambassador to the United Nations, Michael Waltz says, “Castro sent thousands of gay people, Christians, Afro-Cubans and others to concentration camps, it was the regime who stripped them of their property and profited from their forced labor. It was the regime that stripped them of their property and profited from their forced labor. Ever since, Havana would have you believe everything in Cuba has just disappeared. Well, we know where it went, and today we are here to share it with the world…I hope everyone, Mr.President, is listening to the delegation right now. Imagine what happens when someone asks these questions in Havana, not in a room full of ambassadors and cameras. Imagine what happens to those people if this is the intimidation and disruption that we see”
(Video Source: Reuters/UNTV)
— ANI (@ANI) October 27, 2026
مائیک والٹز نے منگل کو اپنی پوری تقریر میں کیوبا کی حکومت پر بدعنوانی کے الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کے رہنما نجی جزیروں پر رہتے ہیں اور مہنگی رولیکس گھڑیاں پہنتے ہیں، لیکن ملک کی مشکلات کا الزام دوسروں پر ڈالتے ہیں۔ یہ تنقید ایسے وقت میں کی گئی جب امریکہ کیوبا کو ایندھن کی فراہمی میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔والٹز نے کیوبا کے سابق رہنما فیڈل کاسترو کی ایک تصویر دکھائی، جس میں وہ دو رولیکس گھڑیاں پہنے ہوئے تھے۔ امریکی سفیر کے مطابق، ان میں سے ہر گھڑی کی قیمت تقریباً 40,000 ڈالر تھی۔انہوں نے کہا، ’’خود کیوبا کی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق، یہ رقم ایک اوسط کیوبائی شہری کی 55 سال کی آمدنی کے برابر ہوگی۔‘‘اس کے بعد والٹز نے کیوبا کے موجودہ صدر میگوئل دیاز کینیل کی تصویر دکھائی اور کہا، ’’یہ سب کچھ صرف کاسترو کے دور میں شروع نہیں ہوا تھا۔ یہ کیوبا کے موجودہ صدر ہیں، جو خود بھی رولیکس گھڑی پہنے ہوئے ہیں۔‘‘
’’پیچھے ہٹ جائیے‘‘، امریکی سفیر نے کیوبا کے وزیر خارجہ سے کہا
والٹز کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پریلا آگے بڑھے اور امریکی سفیر پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا۔ اس پر والٹز نے سخت لہجے میں کہا، ’’پیچھے ہٹ جائیے۔‘‘پریلا نے تقریر میں مداخلت کرتے ہوئے ضابطے کی خلاف ورزی کا اعتراض اٹھایا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ضابطہ 71 کا حوالہ دیا، جس کے تحت کوئی نمائندہ ضابطے سے متعلق اعتراض اٹھا سکتا ہے اور صدر کو طے شدہ طریقہ کار کے مطابق فوری طور پر اس پر فیصلہ دینا ہوتا ہے۔والٹز نے ان کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کے وزیر خارجہ کو صرف ان کی باتیں پسند نہیں آ رہیں۔
انہوں نے کہا، ’’انہیں تلخ حقائق پسند نہیں ہیں۔‘‘
جب پریلا پوڈیم کی جانب بڑھتے رہے اور اپنے اعتراض کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے تو والٹز نے کہا، ’’آپ جتنا چاہیں، دھونس جمانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ لیکن میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس پوڈیم سے دور ہو جائیے۔‘‘اس کے بعد امریکی سفیر نے جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، ’’جناب صدر، اس شخص کو پوڈیم سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ وہ امریکہ میں مجھے اس طرح دھمکا نہیں سکتا، جس طرح وہ سیاسی قیدیوں کو دھمکانے کی کوشش کرتا ہے۔ میں امریکہ کا نمائندہ ہوں۔ پیچھے ہٹ جائیے!‘‘
اس پر پریلا نے جواب دیا، ’’آپ جھوٹے ہیں!‘‘
والٹز نے دوبارہ انہیں پیچھے ہٹنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ’’دور ہو جائیے! کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کس سے بات کر رہے ہیں؟ یہ امریکہ ہے۔ پیچھے ہٹ جائیے۔‘‘صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد اقوام متحدہ کی کارروائی معطل کر دی گئی۔
امریکی سفیر کے ترجمان پر حملے کا دعویٰ
’دی پوسٹ‘ کے حاصل کردہ ایک ویڈیو میں امریکی سفیر کے ترجمان جے پی فریرے کے ساتھ ہاتھا پائی کا واقعہ بھی دکھایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، کیوبا کے وفد کے ایک دوسرے رکن نے فریرے پر حملہ کیا اور واقعے کی ویڈیو بنانے کے دوران ان کا آئی فون چھیننے کی کوشش کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…
پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…
یہ اعزاز 30 ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں پیش آنے…
سمندری طوفان کے اثر سے آندھرا پردیش کے انکاپلی، وشاکھاپٹنم، کاکیناڈا اور کونسیما اضلاع میں…
اکاسا ایئر نے بتایا کہ پروازیں منسوخ ہونے سے متاثرہ مسافر مکمل رقم واپسی کا…
مرکزی وزیر مملکت برائے کھیل رکشا کھڈسے نے اس تاریخی پروگرام کی ستائش کرتے ہوئے…