نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے سے متعلق جاری احتجاج کو اس وقت مزید مضبوطی ملی جب کانگریس کے سینئر لیڈراور راجیہ سبھا ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ کیا اور بھوک ہڑتال پربیٹھے طلبہ سے ملاقات کرکے ان کی تحریک کی حمایت کی۔ انہوں نے طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے لینے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔
رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جامعہ انتظامیہ لاٹھی کے زور سے طلبہ کی آواز کو نہیں دباسکتی ہے۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ جامعہ میں طلبہ یونین کی بحالی ہونے تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ کے طلبہ تقریباً 10 دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں اورطلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں، لیکن افسوس جامعہ انتظامیہ کواپنے طلبہ کی کوئی فکرنہیں ہے، البتہ احتجاج کررہے طلبہ کو ڈرا اور دھمکا کراحتجاج کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے دم پراحتجاج کوختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے جامعہ انتظامیہ سے جلد ازجلد طلبہ کے مطالبات کومان کرہڑتال کوختم کرانے کی اپیل کی۔
जामिया के छात्र पिछले 10 दिन से भूख हड़ताल पर हैं, उनकी मॉंग है कि स्टूडेंट यूनियन को बहाल किया जाये, अफसोस है कि जामिया प्रशासन को अपने छात्रों की कोई फिक्र नहीं है उल्टा ऑंदोलन कर रहे छात्रों को डराने की कोशिश की जा रही है, उनको धमका कर भूख हड़ताल ख़त्म कराने की कोशिश हो रही है।
आज भूख हड़ताल पर बैठे छात्रों से मिला और उनका हौसला बढ़ाया, जामिया प्रशासन को जल्द से जल्द छात्रों की डिमांड को मानकर ऑंदोलन समाप्त करने के लिये आगे आना चाहिये।
@jmiu_official— Imran Pratapgarhi (@ShayarImran) October 21, 2026
عمران پرتاپ گڑھی کی آمد کواحتجاجی طلبہ کے لیے حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طلبہ طویل عرصے سے جامعہ میں جمہوری نمائندگی کی بحالی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعہ میں طلبہ یونین کی عدم موجودگی کے باعث انہیں اپنے مسائل اورمطالبات انتظامیہ تک پہنچانے کے لیے ایک موثرپلیٹ فارم میسر نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے جلد ازجلد ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ جمہوری طریقے سے اپنی نمائندگی کر سکیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ ان کے جمہوری مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہئے اور ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔ اس موقع پرکانگریس کے اقلیتی شعبے کے چیئرمین عبدالواحد قریشی، میڈیا انچارج عدنان اشرف، این ایس یو آئی لیڈر ذیشان خان، فیضان علی خان سمیت یوتھ کانگریس کے کئی لیڈران بھی موجود تھے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
دوارکا میں 8,941 کروڑ روپے کے یمنا پروجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ…
اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…
2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے…
انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026 اس دسمبر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے جا رہا…
سن سٹی میں 28 اکتوبر تک جاری رہے گا چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر…
اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج…