لکھنؤ/رام پور۔ اتر پردیش میں 2027 کے اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہونے لگی ہیں۔ اسی دوران سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے رام پور ضلع جیل پہنچ کر پارٹی کے سینئر رہنما اعظم خان سے ملاقات کی۔ تقریباً 45 منٹ تک جاری رہی اس ملاقات کے بعد اکھلیش یادو ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے اور اعظم خان کی حمایت میں کھل کر بات کی۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اعظم خان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور ان کے خلاف کئی ایسے مقدمات درج کیے گئے ہیں جنہیں وہ سیاسی محرکات پر مبنی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، ’’اعظم تھے، اعظم ہیں اور اعظم رہیں گے۔‘‘ اکھلیش کے مطابق، اعظم خان اور ان کے خاندان کے خلاف جس طرح کی کارروائی ہوئی ہے، ویسا سلوک شاید ہی کسی دوسرے سیاسی خاندان کے ساتھ کیا گیا ہو۔
محض ملاقات نہیں، انتخابی حکمت عملی کا بھی اشارہ
اکھلیش یادو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سماجوادی پارٹی آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے ساتھ ممکنہ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر بھی سیاسی سرگرمیاں تیز ہورہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس بات پر بھی بحث ہے کہ اس ملاقات میں صرف خیریت دریافت نہیں کی گئی، بلکہ مغربی اتر پردیش کی سیاسی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال ہوا ہوگا۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ اعظم خان کے اثر و رسوخ والے اسمبلی حلقوں اور وہاں ممکنہ امیدواروں کے ناموں پر بھی گفتگو ہوئی ہو سکتی ہے۔
اکھلیش اور اعظم خان کی ملاقاتوں کا پرانا سلسلہ
اکھلیش یادو اور اعظم خان کے درمیان مسلسل رابطہ رہا ہے۔ 22 مارچ 2024 کو لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ سے ٹھیک پہلے اکھلیش یادو سیتاپور جیل میں بند اعظم خان سے ملنے پہنچے تھے۔ اس وقت رام پور لوک سبھا سیٹ اور انتخابی حکمت عملی پر دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو ہوئی تھی۔ سیاسی ذرائع کے مطابق، اس ملاقات کے دوران اعظم خان نے اکھلیش یادو کو رام پور سے انتخاب لڑنے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ بعد ازاں 23 ستمبر 2025 کو اعظم خان کو ضمانت ملی اور وہ سیتاپور جیل سے باہر آئے۔
ضمانت کے بعد بھی رابطہ برقرار رہا
8 اکتوبر 2025 کو اکھلیش یادو رام پور میں اعظم خان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔ تاہم، دوہرے پین کارڈ کے معاملے میں سزا سنائے جانے کے بعد اعظم خان اور ان کے بیٹے عبداللہ اعظم کو دوبارہ جیل جانا پڑا۔ اس کے بعد 22 اکتوبر 2026 کو اکھلیش یادو ایک بار پھر رام پور پہنچے۔ انہوں نے پہلے جیل میں اعظم خان سے ملاقات کی اور پھر ان کے گھر جا کر اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اکھلیش کے بیان سے واضح تھا کہ وہ آج بھی اعظم خان کو پارٹی کا ایک اہم رہنما مانتے ہیں۔
کانگریس کے ساتھ اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم پر بھی نظر
سماجوادی پارٹی مغربی اتر پردیش میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ایسے میں اعظم خان جیسے تجربہ کار رہنما کی رائے کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔ ایسے اسمبلی حلقوں میں جہاں اتحاد اور مقامی سیاسی مساوات اہم ہوں گی، وہاں اعظم خان کا مشورہ مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس ملاقات میں مغربی اتر پردیش کی متعدد سیٹوں کے حوالے سے ابتدائی گفتگو بھی ہوئی ہو سکتی ہے۔
25 سے 30 اسمبلی سیٹوں پر اثر و رسوخ کا دعویٰ
رام پور، مرادآباد اور بریلی کے علاقوں میں اعظم خان کا طویل عرصے سے مضبوط سیاسی اثر و رسوخ مانا جاتا رہا ہے۔ وہ کئی مرتبہ رکن اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہوچکے ہیں اور ریاستی حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے اہم مسلم رہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا رہا ہے۔ رام پور کے علاوہ مغربی اتر پردیش کے کئی اسمبلی حلقوں میں امیدواروں کے انتخاب کے دوران بھی ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ سلطان پور کے اسولی اور کاس گنج کے پٹیالی اسمبلی حلقوں میں بھی ان کی حمایت سے ٹکٹ ملنے کی باتیں ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں۔
اویسی کی ریلی کے بعد اکھلیش کے دورے کی اہمیت بڑھی
اکھلیش یادو کا رام پور دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس سے تین دن پہلے، 19 اکتوبر کو، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے رام پور میں ایک جلسہ کیا تھا۔ اس جلسے میں اویسی نے سماجوادی پارٹی پر مسلم قیادت کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسلم رہنماؤں کے معاملات میں سماجوادی پارٹی کا رویہ دوسرے رہنماؤں کے مقابلے میں مختلف دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں اعظم خان سے اکھلیش یادو کی ملاقات کو ایک سیاسی پیغام کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔
اویسی پر اکھلیش یادو کا سخت حملہ
رام پور دورے کے دوران اکھلیش یادو نے اویسی کو نشانہ بنانے کا موقع بھی نہیں چھوڑا۔ انہوں نے کہا:
’’راون نے بھی ایک دن کے لیے بھیس بدل کر ماتا سیتا کا اغوا کیا تھا۔ یہ لوگ تو برسوں سے الگ الگ بھیس بدلتے نظر آرہے ہیں۔‘‘
اکھلیش کے اس بیان کو اویسی کی سیاست پر براہ راست حملے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ مجموعی طور پر رام پور میں اکھلیش یادو اور اعظم خان کی یہ ملاقات محض ایک رہنما سے ملاقات تک محدود نہیں سمجھی جارہی، بلکہ اسے 2027 کے اسمبلی انتخابات، مغربی اتر پردیش کی انتخابی حکمت عملی اور حزب اختلاف کے ممکنہ اتحاد کی تیاریوں سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
دوارکا میں 8,941 کروڑ روپے کے یمنا پروجیکٹس کا افتتاح کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ…
اسرائیلی وزیر اعظم نے کیپٹن اسمت مچھار کو ’بھارت کا بہادر پائلٹ‘ قرار دیا۔ دونوں…
کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بھوک…
انڈیا آئی ٹی ایم ای 2026 اس دسمبر گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے جا رہا…
سن سٹی میں 28 اکتوبر تک جاری رہے گا چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر…
اڈانی انرجی سولیوشنز لمیٹڈ (AESL) نے مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی کے نتائج…