قومی

Raj Thackeray on language dispute: ’’ہندی مسلط کرنا برداشت نہیں…‘‘، زبان کے تنازعہ پر راج ٹھاکرے کا بیان

ممبئی: مہاراشٹر میں جاری زبان کے تنازعہ کے درمیان، ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے نے ’مراٹھی ایکتا‘ پر ممبئی کے ورلی ڈوم میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر راج ٹھاکرے نے کہا، ’’میں نے کہا تھا کہ جھگڑے سے بڑا مہاراشٹر ہے۔ ہم 20 سال بعد ایک پلیٹ فارم پر آئے ہیں۔ ہمارا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ صرف مہاراشٹر اور مراٹھی ہمارے لیے ایجنڈا ہیں۔

’’ممبئی کو مہاراشٹر سے کوئی الگ نہیں کر سکتا‘‘

راج ٹھاکرے نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم پرسکون ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کسی سے ڈرتے ہیں۔ ممبئی کو مہاراشٹر سے کوئی الگ نہیں کر سکتا۔ ہندی اچھی زبان ہے، لیکن اسے مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ ہندی بولنے والے مہاراشٹر میں روزگار کے لیے آتے ہیں۔

’’یوپی اور بہار میں کونسی ہوگی تیسری زبان‘‘

ایم این ایس سربراہ نے کہا، ’’ایک وزیر مجھ سے ملے اور اپنی بات سنانے کو کہا۔ میں نے صاف کہا کہ میں سنوں گا لیکن مانوں گا نہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اتر پردیش، بہار اور راجستھان میں تیسری زبان کونسی ہوگی؟ یہ سبھی ہندی بولنے والی ریاستیں ہم سے پیچھے ہیں، ہم ان سے آگے ہیں، تو پھر زبردستی ہمیں ہندی سیکھنے کی کیا ضرورت؟ تو یہ ناانصافی ہے۔‘‘

’’جب مہاراشٹر جاگتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے‘‘

انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ تین زبان کا فارمولا کہاں سے آیا؟ یہ صرف مرکزی حکومت کی طرف سے آیا ہے۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں سب کچھ انگریزی میں ہے، کسی اور ریاست میں ایسا نہیں ہے۔ صرف مہاراشٹر میں ہی ایسا کیوں؟ جب مہاراشٹر جاگتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے۔ مراٹھا راج ہندی زبان سے بھی پرانا ہے۔ میرے والد اور بالا صاحب نے بھی انگلش میڈیم اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔ کیا آپ نے کبھی ان کی مراٹھی یا مہاراشٹر کی محبت پر سوال اٹھایا؟

’’لیکن کسی کو ان کے ہندوتوا پر شک ہے‘‘

راج ٹھاکرے نے کہا کہ جب ہمارے بچے انگلش میڈیم میں جاتے ہیں تو ہماری مراٹھی پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایل کے اڈوانی مشنری اسکول میں پڑھے ہیں، تو کیا ان کے ہندوتوا پر سوال اٹھائیں؟ ہم ہندی تھوپنا برداشت نہیں کریں گے۔ وہ صرف ممبئی کو مہاراشٹر سے الگ کرنا چاہتے ہیں، یہی ان کا ایجنڈا ہے۔ وہ مدعے کو بھٹکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب وہ یہ مدعا اٹھا رہے ہیں کہ ٹھاکرے کے بچے انگریزی میں پڑھے ہیں۔ یہ کیا بکواس ہے؟ کئی بی جے پی لیڈرران نے انگریزی میڈیم سے پڑھائی کی ہے، لیکن کسی کو ان کے ہندوتوا پر شک ہے۔

’’کوئی مراٹھی زبان کو ترچھی نظر سے نہ دیکھے‘‘

راج ٹھاکرے نے کہا، ’’جنوبی میں اسٹالن، کنیموزی، جے للیتا، نارا لوکیش اور سوریہ، سبھی نے انگریزی میں تعلیم حاصل کی ہے۔ بالا صاحب اور میرے والد شری کانت ٹھاکرے نے انگریزی میں پڑھائی کی ہے، لیکن وہ مادری زبان مراٹھی کے تئیں بہت حساس تھے۔ بالاصاحب ٹھاکرے نے انگریزی میڈیم سے پڑھائی کی، لیکن انہوں نے مراٹھی زبان سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ کسی کو بھی مراٹھی زبان کو ترچھی نظر سے نہیں دیکھنا چاہئے۔

وہیں، ادھو ٹھاکرے نے اسٹیج پر آتے ہی کہا، ’’راج ٹھاکرے نے بہت کچھ بول دیا، کیا مجھے کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

2 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

2 hours ago