نئی دہلی: بہار کے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کو 31 سال پرانے ایک معاملے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد پپو یادو کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ آگے ان کے ساتھ کیا ہوگا۔ ان کے اس بیان نے حامیوں میں تشویش اور غصے دونوں کو جنم دے دیا ہے۔بہار کے پورنیہ سے آزاد رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو کو 1995 کے ایک پرانے مقدمے میں گرفتار کیے جانے کے بعد پٹنہ کے آئی جی آئی ایم ایس اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد پپو یادو نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ ان کے ساتھ آگے کیا ہوگا۔ ان کے اس بیان کے بعد حامیوں میں تشویش کے ساتھ ساتھ غصہ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ پولیس ٹیم انہیں اسپتال لے کر پہنچی جہاں ان کا طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔
میڈیکل جانچ مکمل ہونے کے بعد پپو یادو کو گردنی باغ تھانے لایا جائے گا۔ اس کے بعد آج 11 بجے کے بعد انہیں ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں گزشتہ رات دیر گئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے، جبکہ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قدم سیاسی دباؤ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ معاملے کی تفصیلات کے مطابق، یہ کیس سال 1995 سے جڑا ہوا ہے۔ پٹنہ کے گردنی باغ تھانے میں ونود بہاری لال نامی شخص نے اس وقت شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ پپو یادو اور ان کے ساتھیوں نے دھوکہ دہی کے ذریعے ان کا مکان کرائے پر لیا۔ مکان مالک کا دعویٰ ہے کہ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ اس مکان کا استعمال رکنِ پارلیمنٹ کے دفتر کے طور پر کیا جا رہا ہے، جبکہ کرایہ لیتے وقت یہ بات چھپائی گئی تھی۔
ادھر، تین دن قبل ہی پپو یادو سمیت تین افراد کے خلاف عدالت نے ضبطی اور قرقی کا حکم جاری کیا تھا۔ پٹنہ کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے یہ حکم اس بنیاد پر دیا کہ ملزمان طویل عرصے سے عدالت میں پیش نہیں ہو رہے تھے۔ اس سے پہلے عدالت گرفتاری وارنٹ اور اشتہار بھی جاری کر چکی تھی۔
ذرائع کے مطابق، گرفتاری کے وقت پپو یادو کی صحت اچھی نہیں تھی اور وہ بیمار تھے۔ اس کے باوجود پولیس نے انہیں حراست میں لیا، جس پر ان کے حامیوں اور بعض سیاسی رہنماؤں نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ انہیں مناسب اور بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ حامیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ پپو یادو مسلسل نیٹ معاملے کو اٹھا رہے تھے اور طلبہ کے حق میں آواز بلند کر رہے تھے، اسی وجہ سے انہیں نشانہ بنا کر گرفتار کیا گیا۔ ان کا الزام ہے کہ یہ کارروائی سیاسی انتقام کے جذبے کے تحت کی گئی ہے۔
گرفتاری کے وقت پپو یادو کی طبیعت خراب بتائی جا رہی ہے، جس پر ان کے حامیوں اور بعض سیاسی رہنماؤں نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پپو یادو کو بہتر علاج کی سہولت دی جائے۔ حامیوں کا الزام ہے کہ یہ کارروائی سیاسی دباؤ اور انتقامی جذبے کے تحت کی گئی ہے، کیونکہ پپو یادو حالیہ دنوں میں مختلف عوامی اور تعلیمی مسائل پر سرگرم نظر آ رہے تھے۔پپو یادو کی گرفتاری کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور اس معاملے پر آنے والے دنوں میں سیاسی بیان بازی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…