قومی

Uddhav Thackeray on NDA’s victory in Bihar: ’’سکندر جیت کیسے رہا ہے…‘‘، بہار میں این ڈی اے کی جیت کے بعد ادھو ٹھاکرے نے اٹھائے سوال

ممبئی: شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد کئی سوال کھڑے کیے ہیں۔ این ڈی اے پر نشانہ لگاتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ بہار میں حکومت اسی کی بنتی ہے، جس کی ریلی میں سب سے زیادہ خالی کرسیاں ہوتی ہیں۔

’’سکندر بننے کا راز اب تک کوئی سمجھ نہیں پایا‘‘

ادھو ٹھاکرے نے بہار انتخابات کے بارے میں کہا، ’’جمہوریت میں جیتنے والے کو ہی فاتح مانا جاتا ہے اور جیتنے والے کو مبارکباد دی جانی چاہیے۔ ہم نتیش کمار کو بھی ان کی جیت پر مبارکباد دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ (دیویندر فڑنویس) نے کہا تھا کہ جو جیتا وہی سکندر، لیکن سکندر بننے کا راز اب تک کوئی سمجھ نہیں پایا ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ایک بات مجھے حیران کرتی ہے کہ انتخابی مہم کے دوران تیجسوی یادو کی ریلیوں میں جو زبردست بھیڑ دکھائی دیتی تھی، کیا وہ اصل تھی، یا وہ لوگ اے آئی (AI) کے ذریعے پیدا کیے گئے تھے؟ اب یہ سمجھ سے باہر ہو گیا ہے۔ جن کی ریلیوں میں سب سے زیادہ کرسیاں بھری ہوں، ان کی حکومت نہیں بنتی، بلکہ جن کی ریلیوں میں سب سے زیادہ خالی کرسیاں ہوں، حکومت انہی کی بنتی ہے—جو جمہوریت میں سمجھ سے پرے ہے۔‘‘

ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن پر اٹھائے سنگین سوال

ادھو ٹھاکرے نے الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقے پر بھی سنگین سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’بہار کے لوگ پورے ملک میں سوال پوچھ رہے ہیں کہ مہاراشٹر میں جو کچھ ہوا، وہی اب بہار میں کیوں ہو رہا ہے؟ انتخابات پر سوال اٹھ رہے ہیں، لیکن کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کو شفاف اور واضح جواب دینا ہی ہوگا۔

بہار میں این ڈی اے کی جیت میں اہم فیکٹر سمجھی جا رہی ’وزیراعلیٰ خواتین روزگار اسکیم‘ پر ادھو نے کہا، ’’یہ بھی ایک عنصر ہو سکتا ہے، اس کا اثر ضرور پڑا ہوگا۔ لیکن جو لوگ روزانہ تکلیف جھیل رہے ہیں، ان کے ذہن میں اتنی جلدی تبدیلی نہیں آتی۔‘‘ این ڈی اے کی طرف سے وزیراعلیٰ کے چہرے پر واضح موقف نہ رکھنے پر ادھو ٹھاکرے نے کہا، ’’یہ لوگ انتخابات میں وزیراعلیٰ کا چہرہ تک واضح نہیں بتا پائے۔ بہار میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ اتنا وقت کیوں لگایا گیا، یہ بھی انہیں صاف صاف بتانا چاہیے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

9 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

11 hours ago