نئی دہلی: لوک سبھا کے خصوصی اجلاس میں تین اہم بلوں پر ووٹنگ سے عین قبل ایوان کا ماحول اس وقت گرما گیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان غازی آباد کے ووٹر ڈیٹا کو لے کر شدید بحث چھڑ گئی۔ یہ بحث نہ صرف اعداد و شمار تک محدود رہی بلکہ ملک میں نئی حدبندی (ڈی لمیٹیشن) کی ضرورت پر بھی مرکوز ہو گئی۔ بحث کے دوران امت شاہ نے غازی آباد لوک سبھا حلقے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہاں تقریباً 28 لاکھ ووٹرز ہیں اور یہ حلقہ ماضی میں دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ کی نمائندگی میں بھی رہا ہے۔ شاہ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ملک میں کئی حلقے آبادی کے لحاظ سے بہت بڑے ہو چکے ہیں، جس کے باعث عوامی نمائندگی کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔ تاہم جیسے ہی امت شاہ نے یہ اعداد و شمار پیش کیے، اکھلیش یادو نے فوراً مداخلت کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ یہ ڈیٹا کس مردم شماری پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں غازی آباد کی آبادی اور ووٹرز کی تعداد ان اعداد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے اور حکومت پرانے اعداد و شمار پیش کر کے حقیقت کو چھپا رہی ہے۔
اکھلیش یادو کے اس اعتراض پر امت شاہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا اور کہا کہ وہ خود یہی بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ اعداد و شمار پرانے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اکھلیش یادو کو شاید یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اپنے مؤقف کے حق میں بول رہے ہیں یا مخالفت میں۔ شاہ نے کہا کہ اگر نئی حدبندی کی اجازت دی جائے گی تب ہی تازہ اعداد و شمار سامنے آئیں گے اور حلقوں کی ازسرنو تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ وزیر داخلہ نے اپنی بات کو مزید مضبوط کرتے ہوئے ایوان کے سامنے کئی اہم اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں 127 سے زیادہ ایسے لوک سبھا حلقے ہیں جہاں ووٹرز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ بعض حلقوں میں یہ تعداد 48 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جو جمہوری نمائندگی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
امت شاہ نے سوال اٹھایا کہ ایک رکن پارلیمنٹ آخر کس طرح 39 لاکھ یا 48 لاکھ ووٹرز کے مسائل کو مؤثر انداز میں سن سکتا ہے اور انہیں پارلیمنٹ میں پیش کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں عوامی نمائندگی کا تصور کمزور پڑ رہا ہے اور اسی لیے حدبندی ناگزیر ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین میں وقتاً فوقتاً حدبندی کا عمل اسی مقصد کے تحت رکھا گیا ہے تاکہ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ حلقوں کی ساخت کو بھی متوازن بنایا جا سکے۔ شاہ نے واضح کیا کہ لوک سبھا کی نشستوں میں اضافہ کر کے انہیں تقریباً 850 تک لے جانا کوئی سیاسی چال نہیں بلکہ ایک انتظامی اور جمہوری ضرورت ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ حدبندی کے وقت اور طریقہ کار پر مزید غور کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ امت شاہ کی تقریر کے بعد ایوان میں حکمراں جماعت کے اراکین نے میزیں بجا کر ان کی حمایت کا اظہار کیا، جبکہ اپوزیشن نے اپنی تشویش برقرار رکھی۔ اس بحث نے واضح کر دیا کہ آنے والے دنوں میں حدبندی کا مسئلہ ملکی سیاست کا ایک اہم موضوع بننے والا ہے، جس پر مزید گرما گرم مباحثے دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…