قومی

Best relief package in the country: ہماچل پردیش میں بارش و سیلاب کی تباہ کاریاں — 303 ہلاک، 625 سڑکیں بند، ملک کا سب سے بہترین ریلیف پیکیج منظور

شملہ: مسلسل بارش اور سیلاب نے ہماچل پردیش میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے کئی اضلاع میں سڑکیں، بجلی اور پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ریوینیو، باغبانی اور قبائلی ترقی کے وزیر جگت سنگھ نیگی نے پیر کو کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مونسون ’’انتہائی فعال‘‘ رہا، جس نے خاص طور پر چمبا، کانگڑا، منڈی، شملہ اور لاہول-اسپیتی کو بری طرح متاثر کیا۔ انہوں نے کہا ’’چمبا ضلع میں سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، جب کہ کانگڑا، منڈی، شملہ اور لاہول-اسپیتی کے کئی علاقے بھی بری طرح متاثر ہوئے۔ کئی جگہوں پر سڑکیں بند ہیں اور رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔‘‘

نقصانات اور متاثرہ بنیادی ڈھانچہ

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 625 سڑکیں بند ہیں، جن میں تین قومی شاہراہیں بھی شامل ہیں۔ 1,500 سے زائد ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرز متاثر ہوئے ہیں۔ پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو نسبتاً کم نقصان ہوا ہے اور تقریباً 162 اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔ وزیر نے بتایا کہ مانسون کے دوران ریاست کو جانی اور مالی دونوں لحاظ سے بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ’’محکمہ موسمیات نے 27 اگست تک کئی علاقوں میں ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جہاں آمدورفت متاثر ہو، وہاں مقامی انتظامیہ تعلیمی ادارے بند کرنے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔‘‘

ماضی کے حادثات اور فوری ریلیف

نیگی نے کہا کہ مونسون کے آغاز سے اب تک ریاست میں بار بار بادل پھٹنے اور سیلاب جیسے واقعات پیش آئے ہیں۔ ’’ہم پہلے دن سے الرٹ تھے۔ جہاں بھی آفت آئی، فوراً ریلیف کام شروع کیا گیا۔ اسمبلی اجلاس کے دوران بھی چار دن تک صورتحال پر بحث جاری رہی، لیکن کہیں بھی ریلیف میں کوتاہی نہیں ہوئی۔‘‘

ملک کا بہترین ریلیف پیکیج

وزیر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو کی قیادت میں ریاستی کابینہ نے ایسا ریلیف پیکیج منظور کیا ہے جو مرکز کے ریلیف مینوئل کی دفعات سے بھی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’2023 میں مکمل طور پر تباہ شدہ مکان کے معاوضے کو 1.5 لاکھ روپے (جس میں سے ریاست 30 ہزار روپے برداشت کرتی تھی) سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے کیا گیا۔ اس سال بھی یہ رقم برقرار رکھی گئی ہے۔ جزوی طور پر تباہ شدہ مکان کے لیے مرکز کی پالیسی میں 6 ہزار روپے تھے، ہم نے اسے بڑھا کر 1 لاکھ روپے کر دیا۔ گھریلو سامان کے نقصان پر 2,500 روپے کی بجائے اب 70 ہزار روپے ملیں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’فصل انشورنس پہلے فی بیگھہ 3 ہزار روپے دیتی تھی، اب زمین اور فصل کے بہہ جانے پر 10 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ مویشیوں کے نقصان پر معاوضہ 2023 میں 3 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار کیا گیا تھا اور اس سال مزید بڑھا کر 9 ہزار کر دیا گیا ہے، جانوروں کی تعداد کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ گئوشالہ کو نقصان پہنچنے پر 50 ہزار روپے اور دکان کو نقصان ہونے پر 1 لاکھ روپے دیے جائیں گے۔‘‘

عوام کے لیے انتباہ

وزیر نے عوام سے اپیل کی کہ ریڈ الرٹ کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ مسلسل بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی بندش جاری ہے۔ ’’میری گزارش ہے کہ صرف ضرورت پڑنے پر ہی گھر سے نکلیں، اس وقت سب سے ضروری اپنی حفاظت ہے۔‘‘

ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ

تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی کل تعداد 303 ہو گئی ہے، جن میں 155 افراد بارش سے متعلق حادثات اور 148 افراد سڑک حادثات میں مارے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

56 minutes ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

1 hour ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

2 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

2 hours ago