قومی

High-demand jobs for women in tech: بھارت میں ٹیک سیکٹر میں خواتین کے لیے 1.6 کروڑ روپے سالانہ تنخواہ والی اعلیٰ مانگ والی ملازمتیں

بھارت کے ٹیکنالوجی سیکٹر میں خواتین کے لیے اعلیٰ مانگ والی ملازمتوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں تجربہ کار خواتین سالانہ 1.6 کروڑ روپے تک کما سکتی ہیں۔ ٹیم لیز ڈیجیٹل کے تازہ رپورٹ کے مطابق، ڈیٹا سائنس، پروڈکٹ مینجمنٹ، کلاؤڈ انجینئرنگ، اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں خواتین کے لیے شاندار مواقع موجود ہیں۔ بھارت کا ٹیکنالوجی اور کاروباری سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے، اور اس ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ٹیم لیز ڈیجیٹل کے رپورٹ کے مطابق، خواتین نہ صرف نئے داخل ہونے والوں کے طور پر بلکہ تجربہ کار پیشہ ور افراد کے طور پر بھی ٹیک سیکٹر میں اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ خاص طور پر وہ خواتین جو کم عمر ہیں، نسلی طور پر متنوع ہیں، اور اپنے کیریئر کا زیادہ تر حصہ ڈیجیٹل کاروباروں میں گزارتی ہیں، ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بورڈز میں شامل ہونے کے لیے بہت زیادہ مطلوب ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے اس دور میں خواتین کے لیے مواقع نہ صرف بڑھ رہے ہیں بلکہ ان کے لیے تنخواہوں کا معیار بھی بہتر ہو رہا ہے۔ ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں خواتین کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، اور یہ شعبے نہ صرف ترقی کے مواقع فراہم کرتے ہیں بلکہ مسابقتی تنخواہیں بھی پیش کرتے ہیں۔ٹیم لیز ڈیجیٹل نے بھارت کے ٹیک سیکٹر میں خواتین کے لیے چند اہم ملازمتوں کی نشاندہی کی ہے جو اعلیٰ تنخواہوں کے ساتھ نمایاں ہیں۔ ان ملازمتوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

سینئر پروڈکٹ مینیجرز یا ڈائریکٹرز 

تنخواہ: 8 سال سے زیادہ تجربے کے ساتھ، سینئر پروڈکٹ مینیجرز یا ڈائریکٹرز سالانہ 1.6 کروڑ روپے تک کما سکتی ہیں۔

کردار: یہ پیشہ ور افراد کمپنی کی مصنوعات کی حکمت عملی تیار کرتی ہیں، صارفین کے تجربے کو بہتر بناتی ہیں، اور کاروباری اہداف کو پورا کرنے کے لیے ٹیموں کی رہنمائی کرتی ہیں۔

مانگ کی وجہ: ڈیجیٹل مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور صارفین کے لیے نئے حل تیار کرنے کی ضرورت نے اس کردار کو اہم بنا دیا ہے۔

کلاؤڈ آرکیٹیکٹس اور انجینئرز 

تنخواہ: نئے داخل ہونے والوں (0-3 سال تجربہ) کے لیے زیادہ سے زیادہ 14 لاکھ روپے سالانہ، جبکہ سینئر کلاؤڈ آرکیٹیکٹس 1 کروڑ روپے سالانہ تک کما سکتی ہیں۔

کردار: یہ پیشہ ور افراد کاروباروں کی ڈیجیٹل ترقی کے لیے کلاؤڈ انفراسٹرکچر بناتی اور اسے منظم کرتی ہیں۔ وہ کلاؤڈ حل کی ڈیزائننگ، بڑے پیمانے پر تعیناتی، اور سیکیورٹی کو یقینی بناتی ہیں۔

مانگ کی وجہ: بھارت میں ڈیجیٹل تبدیلی کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ضرورت نے کلاؤڈ ٹیکنالوجی کے ماہرین کی مانگ کو بڑھا دیا ہے۔

سائبر سیکیورٹی اسپیشلسٹس 

تنخواہ: نئے داخل ہونے والوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 12 لاکھ روپے سالانہ، جبکہ تجربہ کار پیشہ ور افراد 70 لاکھ روپے سے زیادہ کما سکتی ہیں۔

کردار: یہ پیشہ ور افراد اداروں کے نظاموں، نیٹ ورکس، اور ڈیٹا کو سائبر حملوں سے بچاتی ہیں۔ وہ خطرات کی نشاندہی کرتی ہیں، کمزوریوں کا جائزہ لیتی ہیں، اور سیکیورٹی کے واقعات کا جواب دیتی ہیں۔

مانگ کی وجہ: سائبر خطرات کی بڑھتی ہوئی شدت اور کاروباروں کی ڈیجیٹلائزیشن نے سائبر سیکیورٹی کے ماہرین کو ناگزیر بنا دیا ہے۔

سینئر پروجیکٹ مینجمنٹ آفس (پی ایم او) پروفیشنلز 

تنخواہ: 8 سال سے زیادہ تجربے کے ساتھ، سینئر پی ایم او پروفیشنلز 80 لاکھ روپے سالانہ تک کما سکتی ہیں۔

کردار: یہ پیشہ ور افراد متعدد پروجیکٹس کی نگرانی کرتی ہیں، اسٹریٹجک پروجیکٹ مینجمنٹ فریم ورکس تیار کرتی ہیں، اور اداروں کے اہداف کو پورا کرنے کو یقینی بناتی ہیں۔

مانگ کی وجہ: پیچیدہ پروجیکٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور تنظیمی ترقی کے لیے موثر مینجمنٹ کی ضرورت نے اس کردار کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔

ڈیٹا سائنٹسٹس 

تنخواہ: نئے داخل ہونے والوں کے لیے 10-15 لاکھ روپے سالانہ، جبکہ سینئر ڈیٹا سائنٹسٹس 80 لاکھ روپے سے زیادہ کما سکتی ہیں۔

کردار: ڈیٹا سائنٹسٹس بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کرتی ہیں، پیشن گوئی ماڈلز بناتی ہیں، اور کاروباری فیصلوں کے لیے بصیرت فراہم کرتی ہیں۔

مانگ کی وجہ: مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت نے ڈیٹا سائنس کو ایک کلیدی شعبہ بنا دیا ہے۔

خواتین کے لیے مواقع کی وجوہات

رپورٹ میں چند اہم عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے جو ٹیک سیکٹر میں خواتین کے لیے مواقع کو بڑھا رہے ہیں:

ڈیجیٹل تبدیلی: بھارت کی تیزی سے ڈیجیٹلائزیشن نے نئے کرداروں کو جنم دیا ہے، جن میں خواتین تیزی سے شامل ہو رہی ہیں۔ کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبوں میں نئی ملازمتوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔

تنوع پر زور: بہت سی ٹیک کمپنیاں صنفی تنوع کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، جس سے خواتین کے لیے سینئر عہدوں تک رسائی آسان ہوئی ہے۔

ہنر کی ترقی: خواتین کے لیے آن لائن کورسز، سرٹیفیکیشن پروگرامز، اور تربیتی مواقع نے انہیں جدید ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کرنے میں مدد دی ہے۔

ورک فرام ہوم کی سہولت: ہائبرڈ اور ریموٹ کام کے ماڈلز نے خواتین کے لیے کام اور ذاتی زندگی کے توازن کو بہتر بنایا ہے، جس سے زیادہ خواتین ٹیک سیکٹر میں شامل ہو رہی ہیں۔

اگرچہ مواقع بڑھ رہے ہیں، لیکن خواتین کو کچھ چیلنجز کا سامنا بھی ہے:

صنفی تفاوت: کچھ کمپنیوں میں اب بھی سینئر عہدوں پر خواتین کی نمائندگی کم ہے، اور صنفی تعصبات موجود ہیں۔

ہنر کی کمی: جدید ٹیکنالوجیز جیسے کہ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ہنر مند افرادی قوت کی کمی ایک چیلنج ہے، اور خواتین کو مسلسل اپ اسکلنگ کی ضرورت ہے۔

ورک پلیس کلچر: کچھ اداروں میں خواتین کے لیے سازگار ماحول کی کمی ان کی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے۔

رپورٹ کا کہنا ہے کہ بھارت کا ٹیک سیکٹر اگلے چند سالوں میں مزید ترقی کرے گا، اور خواتین اس ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، اور بلاک چین جیسے نئے شعبوں میں ملازمتوں کی مانگ بڑھنے کی توقع ہے۔ کمپنیوں کی جانب سے تنوع پر بڑھتا ہوا زور اور حکومت کے “اسکل انڈیا” جیسے پروگرامز خواتین کے لیے مزید مواقع پیدا کریں گے۔

بھارت ایکسپریس۔

Rahmatullah

Recent Posts

World Rabies Day: عالمی یوم ریبیز، کتا کاٹ لے تو یہ غلطیاں ہرگز نہ کریں، فوراً اٹھائیں یہ قدم، ورنہ جا سکتی ہے جان

ضلع اسپتال کی اینٹی ریبیز ویکسین او پی ڈی کے انچارج ڈاکٹر موہت بنسل نے…

38 minutes ago

Waterspout Tomado: کبھی پانی کا بگولا دیکھا ہے؟ بہار میں نظر آیا امریکہ، کینیڈا والا حیران کن نظارہ، ویڈیو وائرل

سمستی پور: بہار کے سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر میں ایک انتہائی نایاب…

38 minutes ago

Indian Languages ​​in the Digital World: ڈیجیٹل دنیا میں ہندوستانی زبانوں کے امکانات اور چیلنجز پر دو روزہ قومی سیمینار کا اختتام

سیمینار میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ڈیجیٹل دور میں ہندوستانی زبانوں کا…

2 hours ago