قومی

Heliborne Geophysical Survey: جیسلمیر میں 64 مقامات پر زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی نشاندہی، ہیلی بورن سروے سے مغربی راجستھان کے لیے بڑی امید

جیسلمیر: راجستھان کے صحرائی ضلع جیسلمیر میں پانی کے شدید بحران کے درمیان ایک بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے۔ بھارت سرکار کی وزارتِ جل شکتی کے تحت کرائے گئے ہیلی بورن جیو فزیکل سروے میں ضلع کے 64 مقامات پر زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی موجودگی کے قوی امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ یہ انکشاف مغربی راجستھان کے ان علاقوں کے لیے بڑی راحت سمجھا جا رہا ہے جو طویل عرصے سے خشک سالی اور پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ سروے نیشنل جیو فزیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (این جی آر آئی)، حیدرآباد اور سنٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) کے اشتراک سے انجام دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق پوکھرن تحصیل کے کئی ایسے دیہات جہاں پہلے زیرِ زمین پانی دستیاب نہیں تھا، اب وہاں آبی ذخائر ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت راجستھان کے صحرائی خطے میں آبی تحفظ کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

ہیلی بورن سروے کا طریقۂ کار
ہیلی بورن سروے ایک جدید اور سائنسی طریقہ ہے، جس میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے زمین کے نیچے موجود ساخت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں الیکٹرو میگنیٹک اور جیو فزیکل تکنیک استعمال کی جاتی ہیں، جن کی مدد سے تقریباً 500 میٹر گہرائی تک زمین کی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اس طریقے سے بڑے رقبے کو کم وقت میں نہایت درست انداز میں جانچا جا سکتا ہے۔ سروے کے ذریعے زیرِ زمین پانی کے ذرائع، ان کی گہرائی، میٹھے اور کھارے پانی کے علاقوں اور مصنوعی ریچارج کے ممکنہ مقامات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ راجستھان میں اس سروے کے تحت مجموعی طور پر 66,810 مربع کلومیٹر رقبہ کور کیا گیا، جبکہ جیسلمیر میں تقریباً 15,000 مربع کلومیٹر علاقے کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پورا عمل نیشنل ایکویفر میپنگ پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک میں پانی کے وسائل کا پائیدار استعمال یقینی بنانا ہے۔

پوکھرن تحصیل میں نئی امید
پوکھرن تحصیل کو اب تک زیرِ زمین پانی کے لحاظ سے کمزور علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن تازہ سروے نے صورتحال بدل دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فلسونڈ سے چھاین اور دھڈسر سے راج گڑھ تک کے علاقوں میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر پائے جانے کے امکانات ہیں۔ ان علاقوں میں کل 64 مقامات کو نشان زد کیا گیا ہے، جہاں سے مستقبل میں نل کوپ کے ذریعے پانی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے بیشتر دیہات طویل عرصے سے پینے کے پانی کی قلت سے دوچار ہیں۔ فلسونڈ علاقہ خاص طور پر اہم مانا جا رہا ہے، جہاں زیرِ زمین پانی کی دستیابی مقامی آبادی کے لیے بڑی کامیابی ثابت ہوگی۔ اگرچہ پوکھرن اور بھنیانہ علاقوں میں نہری پانی دستیاب ہے، لیکن زیرِ زمین پانی کی موجودگی ہنگامی حالات میں ایک مضبوط متبادل فراہم کرے گی۔

2021-22 میں شروع ہوا سروے
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ جل شکتی نے 2021-22 میں راجستھان کے صحرائی علاقوں میں ہیلی بورن سروے کا آغاز کیا تھا، جس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔ یہ سروے راجستھان کے علاوہ گجرات، ہریانہ، پنجاب اور ہماچل پردیش کے کچھ حصوں میں مجموعی طور پر 3.88 لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد پانی کے تحفظ، منصوبہ بند استعمال اور پائیدار ترقی کو فروغ دینا ہے۔

مغربی راجستھان کے لیے بڑی راحت
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دریافت سے مغربی راجستھان میں پینے کے پانی اور آبپاشی کے مسائل میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ زیرِ زمین پانی کے ذخائر ملنے سے دیہی آبادی کی زندگی آسان ہوگی اور نقل مکانی جیسے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت نے اس سمت میں عملی اقدامات تیز کر دیے ہیں، جبکہ جیسلمیر کے لوگ اس خبر کو مستقبل کی نئی امید کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Sibghatullah

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

23 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

55 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

2 hours ago