قومی

جمعیۃعلماء ہند کی کوشش کامیاب، تسنیم جہاں معاملہ پر سپریم کورٹ میں کل ہوگی سماعت

نئی دہلی 12/ستمبر2024 اترا کھنڈ کے رودرپور کی رہنے والی مسلم نرس کے قتل کا معاملہ اب سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے،صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کے تعاون سے متوفیہ کی بیٹی اور بہن نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں ایک پٹیشن داخل کرکے چیف جسٹس آف انڈیا سے قتل کے اس مقدمہ کی سی بی آئی انکوائری اور متاثرین کو معاوضہ دیئے جانے کی درخواست کی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس اہم مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس آف انڈیا کی سربراہی والی تین رکنی بینچ 13/ ستمبر جمعہ کے دن کریگی،چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس منوج مشراء اس مقدمہ کی سماعت کریں گے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا میں داخل پٹیشن کو سینئر ایڈوکیٹ نتیا راما کرشنن کے مشورہ سے ایڈوکیٹ صارم نوید اور ایڈوکیٹ شاہد ندیم نے تیار کیا ہے جبکہ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ سوگندھا آنندنے ہے۔ پٹیشن میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایف آئی آر نمبر 406/2024رودر پور پولس اسٹیشن کی مرکزی تفتیشی ایجنسی سے آزادانہ تحقیقات کرائے نیز متوفیہ کی کمسن بچی کو معاوضہ دینے کے لئے ریاستی حکومت کو حکم جاری کرے۔ عدالت سے قومی سطح پر میڈیکل اسٹاف کی حفاظت کے لئے قومی سطح پر گائیڈلائنس تیار کئے جانے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔عرض داشت کو متوفیہ کی کمسن بچی ضیاء ملک (بذریعہ نانا)اور بہن صاحبہ جہاں کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل کیا ہے۔

پٹیشن میں یونین آف انڈیا، منسٹری آف چائلڈ اور وومن اور اسٹیٹ آف اتراکھنڈ کو فریق بنایا گیا ہے۔ آئین ہند کے آرٹیکل 32 کے تحت داخل پٹیشن میں تحریر کیا گیا ہے کہ 30 جولائی کو اسپتال سے واپس آتے ہوئے متوفیہ لاپتہ ہوگئی تھی جس کی رپورٹ پولس میں درج کرائی گئی لیکن پولس نے ان کی رپورٹ پر کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ 8 جولائی کو اس وقت کارروائی شروع کی گئی جب ایک سڑا گلا انسانی ڈھانچہ بر آمد ہوا۔لاش کی شناخت اس کے پاس سے بر آمد موبائل کی وجہ سے ہوئی اور پھر ایک ملزم کی راجستھان سے گرفتاری بتائی گئی۔ پولس نے ایسے شخص کو گرفتار کرنے کااعلان کیا جو پہلے سے پولس تحویل میں تھا اور جو نشے کا عادی ہے۔ پٹیشن میں مزید تحریر کیا گیا کہ پولس نے ان کی شکایت پر کئی دنوں تک کارروائی نہیں کی اور انہیں پولس اسٹیشن کے درجنوں چکر لگانے پڑے۔ پولس نے عوامی غصہ اور احتجاج کے بعد ایف آئی آر درج کی۔ اب تک کی پولس کی کارروائی مشکوک ہے لہذا عدالت کو اس مقدمہ کی تفتیش مرکزی تفتیشی ایجنسی سے کرانا چاہئے تاکہ ہمیں انصاف مل سکے۔

پولس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں یہ کہیں درج نہیں کیا گیا ہے کہ انہیں متوفیہ کی لاش کا ڈھانچہ کیسے ملا جبکہ متوفیہ کے گھر والے متوفیہ کو ایک ہفتہ سے زائد عرصے سے اسی جگہ تلاش کررہے تھے جہاں سے پولس نے لاش ملنے کا دعوی کیا ہے۔ پٹیشن میں مزید تحریرہے کہ پوسٹ مارٹم رپوٹ بھی موت کس وجہ سے ہوئی واضح نہیں کرسکی ہے کیونکہ متوفیہ کی لاش اتنی زیادہ سڑ گل چکی تھی پوسٹ مارٹم کرنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ پٹیشن میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ مقامی پولس کی جانب سے کی جانے والی تفتیش جس رخ پر جارہی ہے انہیں انصاف ملنے کی امید نظر نہیں آرہی ہے۔ پولس نے عوامی غصہ کو دبانے کے لئے خاطی کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جبکہ یہ ایک منظم سازش کے تحت عصمت دری کے بعد قتل کئے جانے کا معاملہ ہے۔

واضح رہے کہ 23/ اگست 2024کو مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہندقانونی امداد کمیٹی کے وکلاء کے ایک وفد نے گدر پور کا دورہ کرکے متوفیہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور انہیں ہر طرح کی قانونی مددکرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ وفد میں ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مجاہد احمد، ایڈوکیٹ راج و دیگر شامل تھے۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

9 hours ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

10 hours ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

11 hours ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

12 hours ago