قومی

Naxal Surrender Bastar Truth Report: کیا واقعی نکسل ازم کا خوف ختم ہو گیا؟ خطرناک نکسلائیٹوں نے سرینڈر کے بعد تنظیم کی بے نقاب کی ’خونی‘ حقیقت !

ملک کی داخلی سلامتی کے لیے دہائیوں تک ناسور بنے رہنے والے نکسل ازم کے محاذ پر اب تبدیلی کی نئی داستان لکھی جا رہی ہے۔ چھتیس گڑھ کے بیہڑ علاقوں میں کبھی دہشت کی علامت سمجھے جانے والے خطرناک نکسلائیٹ اب مرکزی دھارے میں واپس آ کر نہ صرف معمول کی زندگی گزار رہے ہیں بلکہ امن کے سفیر بن کر سماج کی خدمت بھی کر رہے ہیں۔ ’ڈبل انجن‘ حکومت اور امت شاہ کی مؤثر حکمتِ عملی کا اثر ہے کہ بستر کے جنگلات میں اب گولیوں کی گونج کے بجائے ترقی کی آواز سنائی دینے لگی ہے۔ ہتھیار ڈالنے والے ان سابق نکسلائیٹوں کے چہروں پر اب تشدد کا خوف نہیں بلکہ مستقبل کی نئی امید دکھائی دے رہی ہے۔

خون بہانے والے ہاتھوں نے اب تھامی ملک کی حفاظت

یہ وہ ہاتھ ہیں جو کبھی اے کے-47 اٹھا کر اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے سے نہیں کانپتے تھے، لیکن آج یہی ہاتھ خاکی وردی پہننے کے خواہش مند ہیں۔ رام سنگھ مراوی، جو ایک دوست کے بہکاوے میں آ کر نکسل تنظیم سے جڑ گئے تھے، ان کی زندگی میں اس وقت موڑ آیا جب نکسلائیٹوں نے اسی دوست کو بے رحمی سے قتل کر دیا۔اس واقعے نے انہیں اندر تک ہلا دیا اور انہوں نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں 2005 سے 2011 تک تنظیم کے لیے سرگرم رہنے والے دلیپ پوٹائی اب پولیس کانسٹیبل بننے کی راہ پر ہیں۔ دلیپ کا کہنا ہے کہ جنگلوں میں بھٹکنے سے بہتر ہے کہ ملک کی حفاظت کے لیے کام کیا جائے۔

لیوی وصول کرنے والے راجیش کا اعتراف

نکسلائیٹوں کی سب سے خطرناک سمجھی جانے والی ’راوگھاٹ ایریا کمیٹی‘ کے سابق سیکریٹری راجیش متلام کا تجربہ اور بھی حیران کن ہے۔ راجیش کبھی تیندو پتا توڑنے والے غریب قبائلیوں سے ’لیوی‘ یعنی غیر قانونی وصولی کا کام کرتے تھے۔ آج راجیش صاف الفاظ میں تسلیم کرتے ہیں کہ’جل، جنگل، زمین‘ کے نام پر نکسلائیٹوں نے سادہ لوح قبائلیوں کو بھڑکایا اور آخرکار انہی کے گاؤں اجاڑ دیے۔راجیش کے مطابق نکسلائیٹوں کے خوف سے جو گاؤں کبھی خالی ہو گئے تھے، وہاں اب دوبارہ رونق لوٹ رہی ہے۔ اسی طرح رام سنگھ سلام بھی اب پولیس کانسٹیبل بن کر مرکزی دھارے کا حصہ بن چکے ہیں۔

وزیرِ داخلہ کی حکمتِ عملی نے کیسے بدلا منظر؟

نکسل ازم کے خاتمے کے پیچھے مرکز اور ریاستی حکومتوں کا بہترین تال میل کارفرما ہے۔ مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے ایسی حکمتِ عملی تیار کی جس میں پہلے مقامی لوگوں کا اعتماد جیتا گیا اور پھر گمراہ نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں واپس آنے کی ترغیب دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی ’سرینڈر پالیسی‘ نے نوجوانوں کے دلوں سے سزا کا خوف ختم کر کے بہتر زندگی کی امید پیدا کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بڑی تعداد میں نکسل کمانڈر اپنی بندوقیں چھوڑ کر ترنگے کے نیچے پُرامن زندگی کا انتخاب کر رہے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

7 hours ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

7 hours ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

7 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

8 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

8 hours ago