اسلام آباد مذاکرات سے ایران نے امریکہ کے سامنے بڑی شرط رکھی ہے۔ (فائل فوٹو)
ماسکو/تہران: ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران روس نے چند دنوں کے لیے عارضی جنگ بندی کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ روسی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ایران کے بوشہر جوہری بجلی گھر میں موجود اپنے شہریوں اور ماہرین کو محفوظ طریقے سے وہاں سے نکالنا ہے، جہاں درجنوں روسی انجینئر اور تکنیکی عملہ تعینات ہے۔ رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں چار سو سے سات سو کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔
روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ماسکو نے امریکہ اور اسرائیل سے اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ انخلا کے دوران عارضی جنگ بندی پر عمل کیا جائے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی فوجی کارروائی سے بوشہر کے قریب موجود عملے کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے محفوظ راستوں کی فراہمی انتہائی ضروری ہے۔
روس کی سرکاری جوہری کمپنی روساٹوم کے سربراہ الیکسی نے کہا ہے کہ روس ان راستوں کی تفصیلات امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شیئر کرے گا جن کے ذریعے روسی شہریوں کو نکالا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس تمام سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک سے درخواست کرے گا کہ انخلا کے دوران مکمل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔ روسی حکام کے مطابق تقریباً دو سو افراد کے انخلا کا آخری مرحلہ اگلے ہفتے متوقع ہے۔ روس نے بوشہر میں ایران کا جوہری ری ایکٹر تعمیر کیا تھا اور روساٹوم کے انجینئر وہاں اضافی یونٹس کی تعمیر پر کام کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے بڑی تعداد میں روسی ماہرین اس منصوبے سے وابستہ رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کی جانب سے ایران پر بڑے حملے کی دھمکیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی حکام کے سخت بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے، جس کے پیش نظر روس نے فوری سفارتی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے عارضی جنگ بندی کی کوشش اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ خطے میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا خطرہ موجود ہے۔ ایسے میں روس اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کر رہا ہے، جبکہ عالمی برادری بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
نئی دہلی میں منعقدہ 11ویں سنت ایشور سمان میں خدمات انجام دینے والی شخصیات اور…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی ہندوستان کی بیٹیوں کو گولڈ میڈل جیتنے پر…
راجہ وڈنگ کے استعفے کے چند گھنٹے بعد کانگریس نے پرگٹ سنگھ کو پنجاب پردیش…
ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…
نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…
گاندھی جینتی پر دہلی سمیت کئی شہروں میں SIR اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے خلاف…