قومی

Hardeep Singh Puri remembers anti-Sikh riots of 1984: ہردیپ سنگھ پوری نے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کو کیا یاد، کہا- آج بھی کانپ اٹھتا ہوں

نئی دہلی: 1984 کے سکھ مخالف فسادات کی 41ویں برسی کے موقع پر مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے اپنی جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ان فسادات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم آزاد بھارت کی تاریخ کے سب سے سیاہ داغوں میں سے ایک کی برسی منا رہے ہیں۔

ہردیپ سنگھ پوری نے کہا کہ میں آج بھی 1984 کے اُن دنوں کو یاد کرکے کانپ جاتا ہوں، جب بے بس اور معصوم سکھ مردوں، عورتوں اور بچوں کو بلا سوچے سمجھے قتل کیا گیا۔ اُن کی جائیدادوں اور عبادت گاہوں کو کانگریس کے لیڈران اور اُن کے حامیوں کی قیادت میں ہجوم نے لوٹ لیا۔ یہ سب اندرا گاندھی کے سفاکانہ قتل کے ‘بدلے’ کے نام پر کیا گیا تھا۔

 

مرکزی وزیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ر لکھا، ’’یہ وہ وقت تھا جب پولیس کو مجبور کیا گیا کہ وہ خاموش تماشائی بنی رہے، جب کہ سکھوں کو اُن کے گھروں، گاڑیوں اور گوردواروں سے گھسیٹ کر نکالا جا رہا تھا اور زندہ جلایا جا رہا تھا۔ ریاستی مشینری مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی، محافظ ہی مجرم بن گئے تھے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’سکھوں کے گھروں اور جائیدادوں کی نشاندہی کے لیے ووٹر لسٹوں کا استعمال کیا گیا۔ کئی دنوں تک ہجوم کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس، اُس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی نے اپنے بیان ‘جب کوئی بڑا درخت گرتا ہے تو زمین ہلتی ہے’ کے ذریعے سکھوں کے قتلِ عام کی کھلی حمایت کی۔ کانگریس کے رہنما گوردواروں کے باہر ہجوم کی قیادت کرتے دیکھے گئے، جب کہ پولیس تماشائی بنی رہی۔ “قانون و نظم برقرار رکھنے کے لیے قائم اداروں نے ہی اپنی ضمیر کی آواز سن کر ان لیلڈران کو کھلی چھوٹ دے دی۔‘‘

انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایک کانگریس ایم ایل اے کے گھر پر لیڈران کی میٹنگ ہوئی، جہاں یہ طے کیا گیا کہ سکھوں کو ‘سبق سکھانا’ ہوگا۔ فیکٹریوں سے جلنے والا پاؤڈر اور کیمیکل منگوایا گیا اور ہجوم کو تقسیم کیا گیا۔‘‘

ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ہردیپ سنگھ پوری نے لکھا، ’’سالوں بعد (2005) نانووتی کمیشن نے اس سب کی تصدیق کی، اور واضح طور پر کہا کہ کانگریس (آئی) کے لیڈران کے خلاف معتبر ثبوت ہیں جنہوں نے ہجوم کی قیادت کی اور حملوں کو بھڑکایا۔ اُن کی اپنی رپورٹ نے وہی ثابت کیا جو متاثرین ہمیشہ سے جانتے تھے۔ کانگریس قتلِ عام کو روکنے میں ناکام نہیں ہوئی، اُس نے اسے ممکن بنایا۔ بعد میں کانگریس نے دہائیوں تک بے شرمی سے سکھ مخالف تشدد کو جھٹلاتی رہی۔ انہوں نے مجرموں کو تحفظ فراہم کیا اور انہیں انعام کے طور پر اچھی پوسٹنگز دیں (یہاں تک کہ انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی ٹکٹ بھی دیا)۔‘‘

انہوں نے سکھ فسادات کے دوران اپنے گھر پر ہوئے حملوں کا بھی ذکر کیا۔ مرکزی وزیر نے لکھا، ’’دیگر سکھ خاندانوں کی طرح میرے گھر کے قریب بھی یہ تشدد پہنچ گیا۔ اُس وقت میں جنیوا میں ایک نوجوان فرسٹ سیکریٹری کے طور پر تعینات تھا، اور اپنے والدین کی سلامتی کے بارے میں انتہائی فکرمند تھا، جو ایس ایف ایس، حوض خاص کے ایک ڈی ڈی اے فلیٹ میں رہتے تھے۔ میرے ہندو دوست نے بروقت انہیں بچایا اور انہیں خان مارکیٹ میں میرے دادا دادی کے گھر کی پہلی منزل پر لے گیا، جب کہ دہلی اور کئی دیگر شہروں میں ناقابلِ بیان تشدد پھیل چکا تھا۔‘‘

اس دوران ہردیپ سنگھ پوری نے فسادات میں جان گنوانے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ وقت جامع ترقی اور امن کے اُس دور کی قدر کرنے کا ہے، جس میں ہم وزیرِاعظم نریندر مودی کی قیادت میں جی رہے ہیں۔ آج بھارت نہ صرف اپنی اقلیتوں کو محفوظ رکھتا ہے بلکہ بغیر کسی تعصب یا امتیاز کے سب کا ساتھ، سب کا وکاس بھی یقینی بناتا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mokama MLA Anant Singh: دلار چند یادو قتل معاملے میں اننت سنگھ کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے سرینڈر کرنے کا دیا حکم

بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…

24 minutes ago

West Bengal Textbook Updates: اب بنگال کے بچے ’پانی‘ نہیں ’جل‘ پڑھیں گے، نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…

40 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: گجرات کے بناس کانٹھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا روڈ شو، سڑکوں پر امڈے لوگوں نے کیا شاندار استقبال

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…

45 minutes ago

Azmatullah Omarzai: عظمت اللہ عمرزئی نے ریکارڈ سنچری کے ساتھ ہی توڑا پولارڈ، شناکا اور اسٹبس کے چھکوں کا ریکارڈ

زمبابوے کے خلاف 50 گیندوں پر 116 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، چھٹے یا…

1 hour ago