نئی دہلی: دارالحکومت کے تاریخی دہلی جم خانہ کلب پر مرکزی حکومت کے قبضے کی کارروائی کے خلاف اب قانونی لڑائی تیز ہوگئی ہے۔ کلب کے ایک رکن نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرکے حکومت کے اس نوٹس کو چیلنج کیا ہے، جس میں کلب کو صفدرجنگ روڈ واقع 27.3 ایکڑ پر مشتمل احاطہ 5 جون تک خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ مرکز ’’قانونی عمل کے بغیر‘‘ ایگزیکٹو نوٹس کے ذریعے کلب کو زبردستی بے دخل کرنا چاہتا ہے۔ یہ مقدمہ کلب کے طویل عرصے سے رکن وجے کھرانہ کی جانب سے دائر کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 22 مئی کو جاری کیے گئے حکومتی نوٹس میں 1928 کے مستقل لیز معاہدے کی ’’ری-اینٹری کلاز‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی انفراسٹرکچر، عوامی سلامتی اور گورننس انفراسٹرکچر کا ذکر تو کیا گیا، لیکن کسی مخصوص عوامی منصوبے یا ہنگامی ضرورت کی وضاحت نہیں کی گئی۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت نے زمین، عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کے بدلے کسی قسم کے معاوضے کی پیشکش نہیں کی، حالانکہ کلب تقریباً ایک صدی سے اس جائیداد پر اپنے حقوق رکھتا ہے۔
مرکز کے خلاف آئینی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام
درخواست گزار نے الزام لگایا کہ حکومت ’’ایگزیکٹو طاقت، انتظامی حکم اور پولیس فورس کے استعمال‘‘ کے ذریعے زبردستی قبضہ کرنا چاہتی ہے، جبکہ اس کے لیے مناسب قانونی کارروائی ضروری ہے۔ سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے پیر کو جسٹس اونیش جھنگن کی بنچ کے سامنے معاملے کا فوری ذکر کیا، جس کے بعد عدالت نے منگل کو سماعت پر رضامندی ظاہر کی۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی کارروائی آئین ہند کے آرٹیکل 300A کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ کسی بھی شخص یا ادارے کو قانونی اختیار، سماعت اور معاوضے کے بغیر جائیداد کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ درخواست گزار نے 18 دسمبر 2009 کے ایک خط کا بھی حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس (L&DO) نے پہلے جاری ری-اینٹری آرڈر واپس لیتے ہوئے کلب کی ملکیت اور حقوق بحال ہونے کی بات کہی تھی۔
کلب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش
عرضی میں الزام لگایا گیا کہ یہ نوٹس دراصل گزشتہ چند برسوں سے جاری اُن اقدامات کا حصہ ہے، جن کے ذریعے حکومت کلب اور اس کے اثاثوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس میں 2020 میں کمپنیز ایکٹ کی دفعات 241 اور 242 کے تحت شروع ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں کلب کے معاملات میں بدانتظامی اور جبر کے الزامات لگائے گئے تھے۔ دہلی جم خانہ کلب کو ملک کے قدیم ترین اسپورٹس اور سوشل اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کلب 1928 کے مستقل لیز معاہدے کے تحت صفدرجنگ روڈ کے احاطے سے ایک صدی سے زیادہ عرصے سے کام کر رہا ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ کلب کے اراکین نے کئی دہائیوں کے دوران عالمی معیار کے کھیل اور تفریحی انفراسٹرکچر کی تعمیر و ترقی پر بھاری سرمایہ خرچ کیا ہے۔ درخواست گزار نے عدالت سے فوری عبوری تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مقدمے کے فیصلے سے پہلے کلب کو بے دخل کردیا گیا تو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…