قومی

CJP Conflict Reaches in SC: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ ، جعلی ڈگریوں پر عدالت میں دلچسپ تبصرہ، وکیل کے اعتراض پر چیف جسٹس نے مسکراکر کہی یہ بڑی بات

سپریم کورٹ میں ایک عجیب و غریب نام والی سیاسی جماعت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ سے متعلق معاملہ اس وقت دلچسپی کا مرکز بن گیا جب سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں اور سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن پر بحث چھڑ گئی۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کی تعلیمی اسناد پر سوال اٹھاتے ہوئے سخت اعتراض ظاہر کیا، جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے مسکراتے ہوئے ایسا تبصرہ کیا کہ عدالت میں موجود لوگ بھی ہنس پڑے۔معاملہ الیکشن کمیشن کے سامنے رجسٹرڈ بعض سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کی تعلیمی معلومات سے متعلق تھا۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ملک میں کئی ایسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہو رہی ہیں جن کے نام عجیب ہیں اور ان سے وابستہ لوگ جعلی ڈگریوں کے سہارے عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وکیل نے طنزیہ انداز میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے نام جمہوری نظام کا مذاق بنا رہے ہیں۔

چیف جسٹس کی وکیل کو نصیحت

وکیل کی بات سن کر چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے بڑے جمہوری ملک میں ہر شخص کو سیاسی جماعت بنانے اور اپنی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی پارٹی کے نام کی بنیاد پر اس کا مذاق نہیں اڑایا جا سکتا، اصل سوال قانون اور ضابطوں پر عمل کا ہے۔ چیف جسٹس کے اس تبصرے کے بعد عدالت کا ماحول کچھ دیر کے لیے ہلکا پھلکا ہوگیا۔

کورٹ روم کی بات چیت میں کیا؟

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امیدواروں کی تعلیمی اسناد اور حلف ناموں میں دی گئی معلومات کی سچائی انتہائی اہم ہے۔ اگر کسی امیدوار کی ڈگری جعلی پائی جاتی ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ انتخابی عمل میں شفافیت جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غلط معلومات برداشت نہیں کی جا سکتیں۔ عدالت نے الیکشن کمیشن سے بھی اس معاملے پر تفصیلی جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ امیدواروں کی تعلیمی تفصیلات کی جانچ کے لیے موجود نظام کتنا مؤثر ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر سیاست میں شفافیت، جعلی ڈگریوں اور سیاسی جماعتوں کے اندراج کے قوانین پر بحث چھیڑ دی ہے۔قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کی یہ سماعت مستقبل میں انتخابی اصلاحات سے متعلق اہم سمت طے کر سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Navi Mumbai Airport: نوی ممبئی ایئرپورٹ سے اب سفر ہوگا انتہائی آسان، اڈانی گروپ نے شروع کیں ای-شیوائی بسیں

موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…

7 hours ago

British Airways Emergency: برٹش ایئرویز کی پرواز میں اچانک ایمرجنسی، 37 ہزار سے 9 ہزار فٹ تک نیچے آیا بوئنگ 777، لندن ڈائیورٹ

لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…

7 hours ago