جموں و کشمیر کے گلمرگ میں منعقدہ ایک فیشن شو کو لے کر زبردست ہنگامہ ہورہا ہے۔ الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ مسلم اکثریتی صوبہ کشمیر کے اندر رمضان کے مقدس مہینے میں کوئی ایسا شو کیسے منعقد کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ اب اس معاملے کی تحقیقات کر کے 24 گھنٹے میں رپورٹ دی جائے ۔ دراصل یہ فیشن شو گلمرگ کے ایک پرائیویٹ ریزورٹ میں منعقد کیا گیا تھا۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیوز کو دیکھ کر واضح ہوتا ہے کہ ریمپ واک کی گئی اور ویسٹرن اور دیگر لباسوں میں تصاویر کلک کی گئیں۔
اب یہ مسئلہ جموں و کشمیر اسمبلی میں اٹھایا گیا ہے۔ رہنماؤں کا موقف ہے کہ رمضان جیسے مہینے میں جب لوگ روزے رکھتے ہوں تو ایسی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ سی ایم عمر عبداللہ نے پہلے کہا تھا کہ وہ اس معاملے سے لاعلم ہیں، لیکن بعد میں انہوں نے کہا کہ اس کی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اور ایسے پروگراموں کی نہ صرف رمضان بلکہ کسی بھی مہینے میں اجازت نہیں دی جاسکتی۔ سی ایم او آفس نے یہ بھی کہا ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
تاہم پی ڈی پی کے ایم ایل اے میر محمد فیاض نے بھی اسمبلی میں اس تنازعہ کو لے کر اپنا اعتراض درج کرایا، کچھ دوسرے لیڈروں نے بھی براہ راست وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی۔ ہنگامہ یہیں ختم نہیں ہوا،بلکہ کشمیر کے اعلیٰ مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے الزام لگایا ہے کہ سیاحت کو فروغ دینے کے نام پر اس طرح کی فحاشی برداشت نہیں کی جا سکتی۔واضح رہے کہ یہ ایک پرائیویٹ پارٹی تھی، اس لیے اس میں حکومت کا کوئی کردار نہیں تھا۔ لیکن اب جب کہ ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں، تصاویر سامنے آئی ہیں،اور ہنگامہ تیز ہوا ہے تب تحقیقات کے احکامات ضروردے دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ منتظمین نے تمام تصاویر اور ویڈیوز کو بھی اب ڈیلیٹ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
آر سی بی کے ساتھ شاندار سیزن گزارنے کے بعد گریس ہیرس یوپی واریئرز میں…
شیفالی ورما نے محض 26 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرکے بھارتی خواتین ون…
دسمبر 2030 تک نیا ٹرمینل تیار کرنے کا منصوبہ، سالانہ 2 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے…
وکلا کے ایک گروپ نے جسٹس اجے بھنوٹ کی عدالت میں ہنگامہ آرائی کی اور…
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبا کا احتجاج 17ویں روز بھی جاری رہا۔ کیمپس کے قرب…
انڈمان و نکوبار جزائر کی انتظامیہ نے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ مرکز کے زیر…