پدم شری ایوارڈی حاجی رامکڈو۔
جوناگڑھ: گجرات میں ایک نیا سیاسی تنازعہ اس وقت سامنے آیا جب جوناگڑھ کی ووٹر فہرست سے میر حاجی بھائی قسم بھائی کا نام ہٹانے کے لیے ایک درخواست دی گئی۔ حال ہی میں اس معروف لوک فنکار کو پدم ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ میر حاجی بھائی قسم بھائی کو حاجی رامکڈو کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
ڈھولک نواز اور بھارت و بیرونِ ملک بھجن، سنت وانی، غزل اور قوالی میں اپنے نمایاں تعاون کے لیے مشہور 80 سالہ حاجی رامکڈو ایک ممتاز لوک موسیقار ہیں۔ 77ویں یومِ جمہوریہ کی پیشگی شام انہیں پدم شری سے نوازا گیا، جو ان کی چھ دہائیوں پر محیط فنکارانہ خدمات کا اعتراف ہے۔
یہ تنازعہ ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران فارم-7 کے تحت دائر کی گئی ایک اعتراض سے پیدا ہوا ہے۔ الزام ہے کہ بی جے پی کے ایک مقامی کونسلر نے فارم جمع کراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حاجی رامکڈو مستقل طور پر کہیں اور منتقل ہو چکے ہیں، اور اسی بنیاد پر ووٹر فہرست سے ان کا نام ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔
کانگریس لیڈر نے اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنکار دہائیوں سے جوناگڑھ میں مقیم ہیں، اور سوال اٹھایا کہ آخر ان کا نام ووٹر لسٹ سے کیوں ہٹایا جانا چاہیے۔ پارٹی کے ترجمان منیش دوشی نے ایک بیان میں اس قدم پر تنقید کرتے ہوئے کہا، “جس شخص نے اپنی فنکاری کے ذریعے گجرات، ملک اور دنیا کو پہچان دلائی، آج اسی کا نام ووٹر فہرست سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
اعتراض کی بنیاد کی مکمل جانچ کا مطالبہ
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس عمل کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے اور اعتراض کی بنیاد کی مکمل جانچ کی جائے۔ دوشی نے بتایا کہ اس طرح کے معاملات پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں، جن میں معروف مزاح نگار اور پدم شری ایوارڈی شہاب الدین راٹھوڑ کا کیس شامل ہے، جن کا نام بھی مبینہ طور پر اسی مہینے کے آغاز میں ایس آئی آر عمل کے تحت نشانہ بنایا گیا تھا۔
رضامندی کے بغیر فارم-7 کیا گیا تھا جمع
گجراتی ادب میں اپنے کام کے لیے قومی سطح پر معروف راٹھوڑ نے اس وقت تصدیق کی تھی کہ ان کی رضامندی کے بغیر ان کے نام پر فارم-7 جمع کیا گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا، “چاہے کوئی میرے نام سے فارم بھر دے، لیکن مناسب تصدیق کے بغیر میرا ووٹر اندراج منسوخ نہیں کیا جا سکتا۔”
کیوں کیا جاتا ہے فارم-7 کا استعمال؟
انتخابی قوانین کے تحت فارم-7 کا استعمال ووٹر فہرست میں کسی نام کی شمولیت پر اعتراض کرنے یا اسے حذف کرنے کی درخواست کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ، کسی بھی نام کو ہٹانے سے قبل حکام کے لیے دعووں کی تصدیق کرنا اور متعلقہ فرد کو وضاحت کا موقع دینا لازمی ہے۔
چیف الیکشن آفیسر کا نہیں آیا کوئی بیان
ایس آئی آر عمل کو لے کر کانگریس نے ان واقعات کو ایک بڑے خدشے کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں ہزاروں ناموں کو ووٹر لسٹ سے ہٹانے کی درخواستیں سامنے آئی ہیں۔ پارٹی لیڈر ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران اعتراض کے عمل کے مبینہ غلط استعمال پر شفافیت اور مکمل جانچ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حاجی رامکڈو کے معاملے میں اٹھائے گئے مخصوص اعتراضات پر چیف الیکشن آفیسر کی جانب سے تاحال کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…