قومی

PM Modi’s Net Zero vision: وزیراعظم مودی کے ’نیٹ زیرو‘ وژن کی جانب گجرات کی بڑی کامیابی، ایک سال میں کاربن اخراج میں 49.79 ملین ٹن کی ریکارڈ کمی

گاندھی نگر: وزیراعظم نریندر مودی نے ہمیشہ ’کلین اور گرین انڈیا‘ کے وژن کو ملک کی ترقی کی اہم بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا واضح موقف رہا ہے کہ اقتصادی ترقی اور ماحولیاتی تحفظ ساتھ ساتھ چلیں، تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور پائیدار مستقبل فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعظم کے اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ بھوپیندر پٹیل کی قیادت میں گجرات نے ماحولیاتی تحفظ اور گرین انرجی کے شعبے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران گجرات نے صرف ایک سال میں 49.79 ملین ٹن کاربن اخراج کو فضا میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ ریاست کی تاریخ میں کسی ایک سال کے دوران کاربن اخراج میں درج کی گئی سب سے بڑی کمی ہے۔

67,655 ملین یونٹ گرین بجلی کی ریکارڈ پیداوار

اس تاریخی کامیابی کی اہم وجہ ریاست کے توانائی کے شعبے میں شمسی، ہوا اور قابلِ تجدید توانائی کے دیگر ذرائع کا تیزی سے فروغ ہے۔ اسی کے نتیجے میں گجرات نے صرف ایک سال میں 67,655 ملین یونٹ گرین بجلی کی ریکارڈ پیداوار بھی درج کی ہے۔ ریاستی حکومت کے گرین انرجی اقدامات، ماحول دوست پالیسیوں اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں تیزی سے ہونے والی توسیع کے نتیجے میں گجرات گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مجموعی طور پر 179 ملین ٹن کاربن اخراج کو فضا میں شامل ہونے سے روکنے میں کامیاب رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں ہر سال تقریباً 442 ملین ٹن گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ ایسے میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سالانہ مجموعی اخراج کے تقریباً 40 فیصد کے برابر کاربن اخراج میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ گجرات نے ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان مؤثر توازن قائم کرتے ہوئے پائیدار اور سبز ترقی کا مضبوط ماڈل پیش کیا ہے۔

گرین انرجی سے ماحول اور صحت کو فائدہ

ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر گرین انرجی کے استعمال سے کوئلے اور دیگر فوسل ایندھن کی کھپت کم ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں کاربن اخراج میں براہِ راست کمی آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں قابلِ تجدید توانائی کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ کاربن اخراج صرف ماحول سے متعلق مسئلہ نہیں بلکہ اس کا براہِ راست تعلق عام لوگوں کی صحت، موسم اور طرزِ زندگی سے بھی ہے۔ فضا میں بڑھتا ہوا کاربن اخراج گلوبل وارمنگ، شدید گرمی، بے قاعدہ بارش، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، گرین انرجی کے استعمال سے آلودگی میں کمی آتی ہے، ہوا کا معیار بہتر ہوتا ہے اور صحت سے متعلق خطرات بھی کم ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا ماننا ہے کہ شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی توانائی جیسے صاف توانائی کے ذرائع مستقبل میں نہ صرف ماحول کے تحفظ کی بنیاد بنیں گے بلکہ توانائی کی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے اہم ستون بھی ثابت ہوں گے۔

2070 تک نیٹ زیرو کے ہدف کی جانب پیش قدمی

اس شاندار کامیابی کے ذریعے ریاستی حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ گجرات صرف مقررہ اہداف کو پورا کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔ ریاست میں نافذ کی گئی ’انٹیگریٹڈ آر ای پالیسی 2026‘، ’گرین ہائیڈروجن پالیسی‘ اور ’گجرات پمپ اسٹوریج پالیسی‘ جیسی پالیسیوں نے ماحولیاتی تحفظ کی مہم کو نئی رفتار دی ہے۔ محکمہ توانائی کی سخت نگرانی میں جی یو وی این ایل (گجرات انرجی ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ)، جی ای ڈی اے اور جی پی سی ایل جیسے اداروں کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں ریاست کے بجلی پیداوار کے مجموعی نظام میں گرین انرجی کا حصہ تیزی سے بڑھا ہے، جس سے ہوا کے معیار میں نمایاں اور مثبت بہتری آئی ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے سال 2070 تک بھارت کو ’نیٹ زیرو‘ بنانے کے وژن کو عملی جامہ پہنانے میں گجرات اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی سمت میں ریاستی حکومت نے 2030 تک 100 گیگا واٹ قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت تیار کرنے کا ایک پرعزم منصوبہ تیار کیا ہے۔ گجرات کی یہ کامیابی صرف ریاست تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ بھارت کے عالمی موسمیاتی اہداف اور پیرس معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کو بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ گرین انرجی اور پائیدار ترقی کی سمت گجرات آج ملک کے لیے ایک مؤثر ماڈل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Sangh UGC Viniyam: سنگھ کے ’غیر متوازن‘ تبصرے سے اقتدار، تنظیم اور سماجی توازن کا امتحان

آر ایس ایس کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر نے یو جی سی کے…

6 hours ago

Ind vs NZ Vaibhav Suryavanshi: ’یہ ویبھو پروٹیسٹ کر رہا ہے!’ پلیئنگ الیون سے باہر ہونے پر اکشر پٹیل نے لی چٹکی، ویڈیو وائرل

ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آخری ٹی 20 میچ سے پہلے نوجوان بلے باز…

6 hours ago

شمیم نکہت اردو فکشن ایوارڈ ڈاکٹر صبیحہ انور اور وقار رضوی صحافت ایوارڈ سنجے شرما کو تفویض، آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی، لکھنؤ میں تقریب منعقد

ڈاکٹرعماررضوی نے اپنے صدارتی خطاب میں دونوں ایوارڈ یافتگان اورافسانہ نویس انعام یافتہ طلبہ کو…

6 hours ago

Successful 5 Years of Social Change: برج کمیونیکیشنز نے یومِ تاسیس منایا، نیپال سے بین الاقوامی توسیع کا آغاز

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران برج کمیونیکیشنز سماجی ترقی کے شعبے میں ایک جامع اور…

7 hours ago

Dr Priti Adani to Address The World Symposium: وارانسی میں 2 سے 4 نومبر تک ’ارسطو-کنفیوشس سمپوزیم 2026‘ کا انعقاد، ڈاکٹر پریتی اڈانی کریں گی خطاب

بین الاقوامی اجلاس میں دنیا کی اہم فلسفیانہ اور تہذیبی روایات کے درمیان مکالمے، مصنوعی…

7 hours ago