قومی

GST 2.0 Set to Reset Real Estate Market: جی ایس ٹی 2.0 سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں پڑے گی نئی جان، سستے گھروں کی طلب میں ہوگا اضافہ: اروند نندن

بھارت کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، جہاں ایک طرف سستے اور 50 لاکھ روپے سے کم قیمت والے گھروں کی طلب میں سست روی دیکھی جا رہی ہے، وہیں دوسری جانب لگژری اور پریمیم گھروں کے منصوبوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم حالیہ جی ایس ٹی 2.0 اصلاحات، جن کے تحت بالواسطہ ٹیکس کی شرح کو چار سے کم کر کے صرف دو (5% اور 18%) کر دیا گیا ہے—اور 40% کا ایک ڈی میرٹ سلیب رکھا گیا ہے—سستے گھروں کے شعبے میں نئی جان ڈال سکتی ہیں۔

تعمیراتی لاگت میں کمی سے قیمتوں میں بھی ممکنہ 8-9فیصد کمی متوقع

ماہرین کے مطابق اگر جی ایس ٹی میں ہونے والی کمی کا فائدہ خریداروں تک پہنچایا جائے تو گھروں کی قیمتوں میں تقریباً 8 سے 9 فیصد کی کمی ممکن ہے۔ سیویلز انڈیا کے مینیجنگ ڈائریکٹر برائے ریسرچ و کنسلٹنگ اروند نندن کے مطابق ’’اگر قیمت میں 5 فیصد سے زیادہ کمی آتی ہے، تو یہ ایک نمایاں تبدیلی ہوگی۔‘‘ اروند نندن کا کہنا ہے کہ وبا کے بعد 2021-22 میں رہائشی شعبے نے بہترین فروخت دیکھی، لیکن اس کے بعد مارکیٹ نے سست روی کے آثار ظاہر کیے۔ اس دوران لگژری اور پریمیم گھروں کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، خاص طور پر 5 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ قیمت والے گھروں میں۔ انھوں نے اس رجحان کو ’’پریمیمائزیشن‘‘ قرار دیا ہے، جو بڑے شہروں میں قیمتوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

تہواروں کا موسم، پرانی انوینٹری ختم کرنے کا موقع

اروند نندن کے مطابق جی ایس ٹی میں کمی کے ساتھ ہی نوراتری اور دیوالی جیسے تہواروں کا موسم مارکیٹ کے لیے خوش آئند ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ ڈیڑھ مہینہ ایک شاندار وقت ہے۔ اگر کوئی ڈویلپر اس فائدے کو خریدار تک منتقل نہیں کرتا، تو وہ مارکیٹ سے کٹ چکا ہے۔‘‘ ڈویلپرز کے پاس پہلے سے بڑی مقدار میں انوینٹری موجود ہے، جسے فروخت کرنے کے لیے وہ تیار ہیں۔ ان کا فوری ردعمل یہ ہوگا کہ قیمتیں کم کر کے فروخت میں اضافہ کیا جائے۔

شہری علاقوں میں زمین کی قیمت اب بھی رکاوٹ

اگرچہ جی ایس ٹی میں کمی تعمیراتی لاگت کو کم کرے گی، لیکن شہری علاقوں میں زمین کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کے باعث سستے گھروں کی فوری پیداوار مشکل نظر آتی ہے۔ اروند نندن کے مطابق ’’یہ اصلاحات درمیانی آمدنی والے طبقے کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گی۔‘‘

کمرشل، جی سی سی، ویئرہاؤسنگ کے شعبے بھی مستحکم 

دفتر اور کمرشل ریئل اسٹیٹ میں بھی مضبوطی برقرار ہے، خاص طور پر خدمات کے شعبے کی وجہ سے، جو اس مارکیٹ کا 60-65 فیصد چلاتا ہے۔ کو-ورکنگ اسپیس، جو COVID کے بعد متاثر ہوئی تھی، اب 5-6% سے بڑھ کر 20% سے زائد ہو گئی ہے۔ اروند نندن کے مطابق بھارت صرف سستی لیبر کی وجہ سے نہیں بلکہ اعلیٰ مہارت کی بنیاد پر گلوبل کیپٹیو سینٹرز (GCCs) کا پسندیدہ مقام ہے۔ بنگلور، حیدرآباد اور چنئی اس شعبے میں سب سے آگے ہیں۔ اس کے علاوہ ویئرہاؤسنگ، صنعتی ریئل اسٹیٹ اور لاجسٹکس میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ای-کامرس، مینوفیکچرنگ اور تھرڈ پارٹی لاجسٹکس اس کی اہم قوتیں ہیں۔ اروند نندن کے مطابق 2025 میں ویئرہاؤسنگ اور صنعتی لیزنگ کی مانگ بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Netanyahu Invites PM Modi & Captain Smit: اسرائیل کے یوم آزادی پر پی ایم مودی اور کیپٹن اسمت مچھار کو خصوصی دعوت، نیتن یاہو نے فون پر کی بات

اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…

6 hours ago

PM Modi Public Service Exhibition: گجرات میں وزیر اعظم مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کی نمائش، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے کیا معائنہ

پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…

6 hours ago