قومی

FCRA Amendment Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیے جانے کا امکان، اپوزیشن اور عیسائی تنظیموں کے اعتراض کے بعد حکومت نے اٹھایا بڑا قدم

نئی دہلی: اپوزیشن کی جانب سے شدید اعتراضات کے درمیان حکومت کے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ترمیمی بل، 2026 کو تفصیلی جانچ کے لیے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے۔ حکومتی ذرائع نے منگل کو یہ اطلاع دی۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو اب تک لوک سبھا کے ایجنڈے میں غور اور منظوری کے لیے شامل نہیں کیا گیا ہے، تاہم حکومت نے اس سے قبل عندیہ دیا تھا کہ اسے 12 اگست کو ایوان میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ عیسائی تنظیموں نے بھی اس کی بعض دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بل فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم سے متعلق ہے، جو ہندوستان میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی عطیات وصول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔ یہ بل 25 مارچ 2026 کو لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا۔

رجسٹریشن منسوخ ہونے پر اثاثوں سے متعلق نئی تجویز

بل کی ایک اہم تجویز غیر ملکی عطیات اور ان تنظیموں کے اثاثوں کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص اتھارٹی (Designated Authority) قائم کرنا ہے، جن کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ، سرنڈر یا غیر مؤثر ہوجاتی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت کسی تنظیم کی ایف سی آر اے رجسٹریشن ختم ہونے کی صورت میں اس کے غیر ملکی عطیات اور اثاثے ابتدائی طور پر عارضی طور پر مخصوص اتھارٹی کے پاس چلے جائیں گے۔ اگر تنظیم مقررہ مدت کے اندر اپنی رجسٹریشن بحال یا تجدید کرا لیتی ہے تو اثاثے اور غیر استعمال شدہ غیر ملکی فنڈز اسے واپس کردیئے جائیں گے۔ تاہم، مقررہ مدت میں رجسٹریشن بحال نہ ہونے کی صورت میں یہ اثاثے مستقل طور پر مخصوص اتھارٹی کے پاس منتقل ہوسکتے ہیں۔

مذہبی مقامات کے کردار کے تحفظ کی تجویز

بل میں ایف سی آر اے سرٹیفکیٹ کے خاتمے سے متعلق بھی نئی شق شامل کی گئی ہے۔ اس کے تحت سرٹیفکیٹ کی مدت ختم ہونے، تجدید نہ ہونے یا تجدید سے انکار کی صورت میں رجسٹریشن ختم ہوسکتی ہے۔ مذہبی مقامات جیسے اثاثوں کے حوالے سے مجوزہ قانون میں کہا گیا ہے کہ مخصوص اتھارٹی کو اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کی مذہبی حیثیت برقرار رہے۔ بل میں مخصوص اتھارٹی کے فیصلوں کے خلاف نظرثانی اور عدالتی اپیل کا حق بھی تجویز کیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون میں ایف سی آر اے کی خلاف ورزیوں پر عائد سزاؤں کو بھی ازسرنو متعین کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے تحت زیادہ سے زیادہ قید کی مدت پانچ سال سے کم کرکے ایک سال کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ریاستی ایجنسیوں کو ایف سی آر اے کے تحت تحقیقات شروع کرنے سے قبل مرکزی حکومت سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کی شرط بھی تجویز کی گئی ہے۔

عیسائی اور اقلیتی تنظیموں نے اعتراضات اٹھائے

عیسائی اور اقلیتی تنظیموں کے ایک وفد نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرکے بل کی دفعات پر اپنے تحفظات ظاہر کیے اور تبدیلیوں کا مطالبہ کیا۔ میزورم کے وزیراعلیٰ لال دوہوما نے بھی امت شاہ سے ملاقات کرکے قانون سازی سے متعلق علاقائی خدشات اور سفارشات پیش کیں۔ ان کے ساتھ میزورم کوہران ہروئیتو کمیٹی کے چیئرمین ریورینڈ جان رالڈوسانگا اور کونسل آف چرچز ان میزورم کے جنرل سکریٹری ریورینڈ لال ہمنگیہا بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق عیسائی نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ بل واپس لیا جائے یا مزید جانچ کے لیے اسے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جائے۔ لالدوہوما نے بعد میں بتایا کہ انہوں نے امت شاہ کے سامنے چھ مسائل اٹھائے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ مجوزہ ترامیم کا ماضی سے اطلاق نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ قانون کو سابقہ معاملات پر لاگو نہیں کیا جائے گا، جبکہ باقی نکات پر وزیر داخلہ کی جانب سے پیراگراف وار تبصرے دیے جائیں گے اور 12 اگست کو پارلیمنٹ میں اس پر بحث شروع ہوگی۔

ڈی ایم کے وفد نے بھی اعتراضات پیش کیے

ڈی ایم کے رہنما پی ولسن کی قیادت میں ایک وفد نے بھی امت شاہ سے ملاقات کرکے ایک یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں کہا گیا کہ مجوزہ قانون مذہبی اقلیتوں اور سول سوسائٹی کو متاثر کرسکتا ہے۔ وفد نے خاص طور پر مجوزہ دفعہ 14 بی اور باب III-A کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف سی آر اے آن لائن پورٹل پر انتظامی تاخیر یا معمولی تکنیکی عدم تعمیل بھی سرٹیفکیٹ کے خودکار خاتمے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اثاثے عارضی یا مستقل طور پر ریاست کی جانب سے نامزد مخصوص اتھارٹی کے پاس منتقل ہوسکتے ہیں۔ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 20 جولائی کو شروع ہوا تھا اور 13 اگست کو ختم ہونا ہے۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے مختلف مطالبات پر ایوان میں روزانہ تعطل دیکھنے کو ملا ہے۔ اپوزیشن نے 20 جولائی کو دہلی میں مظاہرین کے خلاف دہلی پولیس کی کارروائی سمیت کئی معاملات اٹھائے ہیں۔ اپوزیشن کے احتجاج کے درمیان لوک سبھا میں متعدد بل تقریباً بغیر بحث کے منظور کیے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

37 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

2 hours ago