قومی

Make in India: ’’میک اِن انڈیا‘‘ مصنوعات کی عالمی مانگ میں اضافہ، اوورسیز ویئر ہاؤس ماڈل اپنانے کا مطالبہ

’میڈ اِن انڈیا‘ مصنوعات کی عالمی سطح پر مانگ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں خریدار بھارتی ملبوسات، ہینڈی کرافٹس، کھلونے اور گھریلو سجاوٹ کی اشیاء میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم ایک بڑی تعداد ان مصنوعات کو خریدنے سے صرف اس وجہ سے پیچھے ہٹ جاتی ہے کہ ان کی ڈیلیوری میں 10 سے 12 دن کا طویل وقت لگتا ہے اور شپنگ کے اخراجات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی صارفین، جو اب ایک دن میں ڈیلیوری کے عادی ہو چکے ہیں، بھارتی مصنوعات کی سست ترسیل اور مہنگی شپنگ سے بددل ہو کر خریداری ترک کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر کم قیمت والی اشیاء کے لیے شپنگ لاگت اور تاخیر کا امتزاج ’کارٹ ایبینڈنمنٹ‘ کا باعث بنتا ہے، یعنی صارفین مصنوعات پسند کرنے کے باوجود خریداری مکمل نہیں کرتے۔

اوورسیز ویئر ہاؤسز کی کامیاب حکمت عملی بن سکتی ہے حل

دریں اثنا ماہرین نے تجویز دی ہے کہ بھارتی برآمد کنندگان کو بھی اوورسیز ویئر ہاؤس ماڈل اپنانا چاہیے، جیسا کہ چین کی 60 فیصد ای کامرس کمپنیاں پہلے ہی کر چکی ہیں۔ اس ماڈل میں کمپنیاں اپنی مصنوعات کو متعلقہ ممالک میں موجود گوداموں میں پہلے سے اسٹاک کر لیتی ہیں، جہاں سے مقامی سطح پر فوری ترسیل ممکن ہو جاتی ہے۔

2023 میں چین کی ای کامرس برآمدات 331 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جس کا ایک اہم سبب اوورسیز ویئر ہاؤس نیٹ ورک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس رپورٹ کے مطابق اگر بھارت نے یہی ماڈل اختیار نہ کیا تو 2030 تک اس کی ای کامرس برآمدات محض 25 ارب ڈالر تک محدود رہیں گی، جو کہ حکومتی اہداف سے بہت کم ہے۔

اوورسیز ویئر ہاؤس ماڈل کے اہم فوائد

۔ تیز تر ڈیلیوری (ایک یا دو دن میں)

۔ شپنگ اخراجات میں 30 فیصد تک کمی

۔ ریٹرن پراسیسنگ میں آسانی

۔ کسٹمر سروس کے مقامی معیار کے مطابق ترسیل

۔ سیزنل طلب کے مطابق لچکدار سپلائی چین

عام غلط فہمیاں: حقیقت کیا ہے؟

کئی بھارتی برآمد کنندگان یہ سمجھتے ہیں کہ اوورسیز ویئر ہاؤس ماڈل مہنگا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسٹوریج کا خرچ صرف 60 سے 90 سینٹس فی مکعب فٹ ماہانہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اجتماعی شپنگ انفرادی شپنگ کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور سستی ہوتی ہے اور کسٹم کلیئرنس بھی کم لاگت پر مکمل ہو سکتی ہے۔

حکومتی تعاون کی ضرورت

ماہرین کے مطابق حکومت کو درج ذیل اقدامات کرنے چاہئیں:

۔ حکومتی و نجی اشتراک سے اوورسیز ویئر ہاؤس زونز کا قیام

۔ اوورسیز ویئر ہاؤس اخراجات کو ایکسپورٹ پروموشن اسکیمز میں شامل کرنا

۔ اجتماعی برآمدات کے لیے کسٹم و دستاویزی کارروائی کو آسان بنانا

اس اقدام کی ضرورت یوں بھی نہایت اہم ہے کہ ڈیجیٹل معیشت میں صارفین اب تیز ترین ترسیل کو معیار سمجھتے ہیں۔ اگر بھارت نے بروقت قدم نہ اٹھایا تو دیگر ایشیائی ممالک بھارتی مصنوعات کے عالمی بازار پر حاوی ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اوورسیز ویئر ہاؤس ماڈل، مناسب پالیسی سپورٹ کے ساتھ، بھارتی ای کامرس برآمدات کو نئی بلندیوں تک پہنچا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

Vande Mataram: ’وندے ماترم‘ گیت نے ہندو مسلم برادری کے درمیان بڑا فرق پیدا کیا، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سیمینار میں مقررین کا اظہار خیال

سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…

15 minutes ago

INDIA Bloc Meeting: انڈیا بلاک کے لیڈر پھر ہوں گے ایک پلیٹ فارم پر! 30 ستمبر کو میٹنگ، CEC گیانیش کمار کے خلاف حکمتِ عملی پر ہوگی بحث

SIR اور الیکشن کمیشن کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر ایک پلیٹ فارم…

49 minutes ago

SIR Voter List Revision: ووٹر لسٹ میں ’صفائی‘ یا ووٹ کے حق پر بحران؟ جانیے کیا ہے ایس آئی آر تنازع اور کیوں اٹھ رہے ہیں سوالات

بھارت جیسے بڑے جمہوری ملک میں انتخابات کا آغاز پولنگ بوتھ سے نہیں بلکہ ووٹر…

1 hour ago

Milk Price Hike: مہنگائی کی زوردار مار! ٹونڈ ملک سے دہی تک سب کچھ مہنگا، جانیے تازہ ریٹ

جس دودھ کے بغیر دن کی شروعات مشکل ہے، اب اسی کے لیے جیب مزید…

2 hours ago