قومی

Dussehri and Chausa mango exports: دسہری اور چوسا آم کی برآمدات میں ہو رہا ہے اضافہ، کئی ممالک میں بڑھی مانگ

پرتاپ گڑھ ضلع کے مشہور دسہری اور چوسا آم نے دبئی اور عمان میں بے پناہ مقبولیت حاصل کی ہے، جو اپنے غیر معمولی ذائقے اور خوشبو سے بین الاقوامی صارفین کو مسحور کر رہے ہیں۔ تین سال پہلے جب سے ان کی بین الاقوامی برآمدات شروع ہوئی ہیں، تب سے ہی ان کی مانگ میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اس سیزن میں مذکورہ ممالک کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کئی ٹن آمد برآمد کیے جائیں گے۔ ٹائمس آف انڈیا کی خبر کے مطابق شاہ پور گاؤں کے پربھاکر سنگھ اور پرتاپ گڑھ کے کنڈا کے اونیش سنگھ جیسے آم کے کسانوں نے اپنی پیداوار برآمد کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اونیش، جو چار سالوں سے پھلوں کی برآمد میں مصروف ہے، 22 بیگھہ آم کے باغ کا مالک ہے اور 80 بیگھہ اضافی لیز پر دیتا ہے۔ اس نے 2022 میں ایک ٹن کی چھوٹی کھیپ کے ساتھ عمان کو آم برآمد کرنا شروع کیا، جس کا مثبت نتیجہ برآمد ہوا۔ اس سے حوصلہ پا کر اس نے 2023 میں دبئی کو اپنی برآمدات میں اضافہ کرتے ہوئے کل پانچ ٹن آم بھیجے۔

اسی طرح پربھاکر کے پاس آم کے 100 سے زیادہ درخت ہیں۔ ایک درمیانے درجے کی فصل، جس سے تقریباً 800 کلو چوسا فی درخت اور 400 کلو دسہری حاصل ہوتا ہے۔ پربھاکر نے مزید کہا کہ خطے سے آم کی برآمدات میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے، جس میں 2022 میں 2 کوئنٹل اور 2023 میں 5 کوئنٹل برآمد کیے گئے تھے۔ اگرچہ 2024 میں خراب فصل کی وجہ سے برآمدات کم تھیں، لیکن کسان اس سال 6-7 کوئنٹل آم برآمد کرنے کو لے کر پر امید ہیں۔

حکومت بھی مدد فراہم کر رہی ہے

واضح رہے کہ آم کی برآمدات کو لکھنؤ اور وارانسی میں پیک ہاؤسز کے ذریعے سہولت فراہم کی جاتی ہے، کیونکہ پریاگ راج ڈویژن میں کوئی بھی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ نقل و حمل اور پیکیجنگ کے اضافی اخراجات اٹھانے کے باوجود، مقامی مارکیٹ کی فروخت کے مقابلے میں برآمدات سے 25% زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے ایک اہم عنصر فروٹ بیگنگ ٹیکنالوجی کو اپنانا ہے۔ اس طریقہ کار میں آموں کو حفاظتی موم کی لکیر والے کاغذی تھیلوں سے ڈھانپنا شامل ہے جب وہ درخت پر ہی رہتے ہیں، جو انھیں کیڑوں، دھول، دھوپ اور ہوا کے نقصان سے بچاتے ہیں۔

دریں اثنا اتر پردیش حکومت نے اس پیش رفت کا نوٹس لیا ہے اور اب وہ باغبانی کی مربوط ترقی کے مشن (MIDH) کے تحت مالی مدد فراہم کر رہی ہے۔ رجسٹرڈ کسان فروٹ بیگنگ ٹیکنالوجی کو اپنانے کے لیے 25,000 روپے فی ہیکٹر کی سبسڈی حاصل کر سکتے ہیں، جس سے آم کی برآمدات کے معیار میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ باغبانی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کرشنا موہن چودھری نے بتایا کہ پریاگ راج ڈویژن میں 2,100 ہیکٹر پر آم کی کاشت کی جاتی ہے، جس میں پرتاپ گڑھ سب سے زیادہ کاشت والا علاقہ ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آم کی برآمدات میں پائیدار ترقی اور تکنیکی مدد سے نہ صرف کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا بلکہ ہندوستانی آم کی عالمی موجودگی کو بھی تقویت ملے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

?Will UPI and Phone Banking Work: بینک ہڑتال کا الرٹ، کیا یو پی آئی اور فون بینکنگ کی سہولیا ت جاری رہیں گی؟

پی این بی نے یوزر کو بھیجے گئے ٹیکسٹ پیغام میں آنے والی ہڑتال کے…

1 hour ago

Azamgarh triple murder: یوپی میں  دو پجاریوں، بیوی اور بیٹے کے قاتل کا انکاؤنٹر ہلاک، اعظم گڑھ میں 8 گھنٹے بعد یرغمالی ڈرامہ ختم

وارانسی زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس نوین اروڑہ نے بتایا کہ پولیس نے تقریباً…

2 hours ago

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

12 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

13 hours ago