احمد آباد: اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے منگل کو خدا اور اپنے والدین کا آشیرواد لیا اور مشکل وقت میں ان پر اعتماد برقرار رکھنے اور ان کے ساتھ کھڑے رہنے والے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ اڈانی گروپ نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’خدا اور اپنے والدین کا آشیرواد لیتے ہوئے گوتم اڈانی نے ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جو مشکل وقت میں بھی ان کے ساتھ کھڑے رہے اور ان پر اپنا اعتماد برقرار رکھا۔‘‘
भगवान और अपने माता-पिता का आशीर्वाद लेते हुए, गौतम अदाणी ने उन सब का धन्यवाद किया जो कठिन दौर में भी उनके साथ डटे रहे और उन पर भरोसा बनाए रखा। pic.twitter.com/jOzX52J7jT
— Adani Group (@AdaniOnline) August 11, 2026
امریکی عدالت سے تمام مجرمانہ الزامات خارج
اس سے قبل امریکہ کی ایک عدالت نے سکیورٹیز اور وائر فراڈ سے متعلق مقدمے میں گوتم اڈانی اور دیگر افراد کے خلاف تمام مجرمانہ الزامات خارج کر دیے۔ نیویارک کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی امریکی ضلعی عدالت کے جج نکولس گاروفیس نے اڈانی گروپ کے عہدیداروں کے خلاف مجرمانہ الزامات خارج کیے۔ ارب پتی صنعت کار نے امریکی عدالت کے فیصلے کا ’’عاجزی اور عدالتی عمل کے تئیں گہرے احترام‘‘ کے ساتھ خیرمقدم کیا۔ اس مقدمے میں گوتم اڈانی، ساگر اڈانی اور ان کے ساتھی ونیت جین کے خلاف الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اڈانی گروپ کے چیئرمین نے ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا ’’اس مشکل دور میں سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ہمارا اعتماد اٹل رہا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’’میں ان تمام لوگوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے ہم پر، نظام پر اور بھارت کی انصاف فراہم کرنے کی صلاحیت پر کبھی اپنا اعتماد نہیں کھویا۔‘‘
امریکی ایس ای سی کے ساتھ معاہدہ
دوسری جانب عدالت نے اڈانی گروپ اور امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی) کے درمیان معاہدے کو بھی حتمی شکل دے دی۔ اس معاہدے کے تحت اڈانی گروپ امریکی حکومت کو 1.8 کروڑ ڈالر ادا کرے گا اور اس کے خلاف عائد سول سکیورٹیز فراڈ کے الزامات کو باضابطہ طور پر نمٹا دیا جائے گا۔ گوتم اڈانی نے اپنی پوسٹ میں کہا ’’ہم وہ کام جاری رکھیں گے جو اہم ہے: اپنی قوم کے لیے تعمیر کرنا، ایسی قدر پیدا کرنا جو ہمارے بعد بھی قائم رہے اور خود سے بڑے مقصد کی خدمت کرنا۔ یہی ہمارا عزم ہے۔‘‘
امریکی محکمہ انصاف کی اہم دلیل
گزشتہ ماہ امریکی محکمہ انصاف نے ایک وفاقی عدالت کو بتایا تھا کہ گوتم اڈانی کے خلاف مقدمے کے مرکز میں موجود سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو کوئی مالی نقصان نہیں ہوا۔ محکمے نے دلیل دی کہ سرمایہ کاروں کو نقصان نہ پہنچنے کی حقیقت نے حکومت کے اپنے مقدمے کو مزید کمزور کیا اور تمام مجرمانہ الزامات خارج کرنے کی درخواست کے فیصلے کو تقویت دی۔ عدالتی دستاویز میں کہا گیا ’’زیر بحث سکیورٹیز میں ایک پیسہ بھی کبھی ضائع نہیں ہوا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
دہلی کے شالی مار باغ میں مسجد اور اس کے آس پاس کی مبینہ غیر…
قومی آیوروید دن کے موقع پر مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے ملک…
مرکزی حکومت کی اہم اور دنیا کی سب سے بڑی صحت بیمہ اسکیم ’آیوشمان بھارت‘…
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں قومی شاعر کی عظیم شخصیت کو یاد کرتے ہوئے…
جسٹس دتا نے کہا کہ اگرچہ دونوں ججوں کا نتیجہ مختلف ہے، لیکن ان کا…
سگریٹ کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ رواں سال نافذ کیا گیا نیا…