قومی

Mamata Banerjee Convoy Attacked: ممتا بنرجی نے قافلے پر حملے اور پولیس جانبداری کا لگایا الزام، کہا-’’گاڑی پر پھینکا گیا ایک بڑا پتھر میرے سینے میں لگا‘‘

کولکاتا: ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ اور مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے منگل کو الزام عائد کیا کہ حالیہ قافلے پر حملے کے دوران ان کی گاڑی پر پھینکے گئے ایک بڑے پتھر کی وجہ سے ان کے سینے میں درد ہوگیا تھا۔ کولکاتا کے شیام بازار فائیو پوائنٹ کراسنگ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ طبیعت کی خرابی کے باعث وہ ابتدا میں پروگرام میں شرکت کے لیے تیار نہیں تھیں، لیکن پارٹی کے ڈیجیٹل ونگ کی تقریب ہونے کی وجہ سے انہوں نے شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا ’’ہماری گاڑی پر جو پتھر پھینکا گیا، وہ بڑا سا پتھر تھا۔ اس کی وجہ سے میرے سینے میں درد ہوا۔ آج بھی میں آنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن ہم نے سوچا کہ یہ پروگرام ہماری آئی ٹی ٹیم کا ہے، تو ہم کیوں نہ جائیں؟ اسی لیے ہم یہاں آئے ہیں۔‘‘

اتوار کو قافلے پر پتھراؤ کا واقعہ

یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب ممتا بنرجی شمالی 24 پرگنہ جا رہی تھیں۔ وہ وہاں ٹی ایم سی کے ایک متوفی کارکن کے اہل خانہ سے ملاقات کرنے والی تھیں۔ ان کے ساتھ لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی اور راجیہ سبھا رکن ڈولا سین بھی موجود تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، راستے میں ان کے قافلے کو روکا گیا اور اس پر پتھر سمیت دیگر اشیا پھینکی گئیں۔ سابق وزیراعلیٰ نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھی شدید تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ ٹی ایم سی کے ارکان کے خلاف جانبدارانہ کارروائی کر رہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہا ’’کسے گرفتار کرنا ہے اور کسے نہیں، یہ پولیس کا کام ہے۔ پولیس کا کام صرف ترنمول کانگریس کو گرفتار کرنا رہ گیا ہے۔‘‘

بی جے پی اور پولیس پر مبینہ ملی بھگت کا الزام

ممتا بنرجی نے مزید الزام لگایا کہ پولیس اہلکار بی جے پی کارکنوں کے ساتھ مل کر ٹی ایم سی ارکان کو خوف زدہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’آج بھی ہماری ترنمول کانگریس کی عمارت میں، جہاں اپاسنا، پریانکا اور دیگر لوگ موجود تھے، بی جے پی پولیس کے ساتھ وہاں گئی اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔‘‘

مغربی بنگال کے وزیر نے الزامات مسترد کیے

مغربی بنگال کے وزیر ٹرانسپورٹ ارجن سنگھ نے سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے قافلے پر حملے کے پیچھے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ملوث ہونے کے الزام کو مسترد کر دیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنگھ نے کہا کہ اس مقام پر بی جے پی کا کوئی پروگرام نہیں تھا اور پارٹی کے کسی کارکن کی وہاں موجودگی نہیں تھی۔ ان کے مطابق پتھراؤ کرنے والے افراد اپنے گھروں کی مبینہ توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے خلاف غصے میں ایسا کر رہے تھے۔ ارجن سنگھ نے کہا ’’ہماری پارٹی اس کے خلاف ہے۔ انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیونکہ ان کے گھروں کو لوٹا اور منہدم کیا جا رہا تھا۔ وہاں بی جے پی کا کوئی پروگرام نہیں تھا اور بی جے پی کا کوئی شخص وہاں موجود نہیں تھا۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

Bengal ex-CM Mamata Banerjee: ممتا بنرجی پر چاقو سے حملے کی کوشش کا الزام، پارٹی نے کہا-’’تین بار وزیر اعلیٰ رہ چکی لیڈر بھی محفوظ نہیں‘‘

مغربی بنگال سے ایک حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔ ترنمول کانگریس (ممتا دھڑے) نے…

16 minutes ago

Rahul Gandhi Statement: ’آج نہیں تو کل، جیت ہماری ہی ہوگی‘، اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی کا بیان

دہلی میں اپوزیشن لیڈروں کی میٹنگ کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ جمہوریت اور…

41 minutes ago

Adani Group: اے آئی کی سونامی کے لیے بھارت تیار! اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil مل کر ملک میں بنائیں گے سرور اور کولنگ سسٹم

اڈانی گروپ اور امریکی کمپنی Jabil بھارت میں اے آئی اور ڈیٹا سینٹر سے متعلق…

1 hour ago

HM Amit Shah’s reply to Rahul Gandhi: امت شاہ کا راہل گاندھی کو دوٹوک جواب، کہا- 2029 میں چوتھی شکست کے لیے تیار رہیں

وزیر داخلہ امت شاہ نے ایس آئی آر کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش…

2 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ڈیجیٹل سہولتوں سے گرین انرجی تک، وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سامنے گنوائیں بھارت کی کامیابیاں

وزیر اعظم نے ڈیجیٹل سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ٹیکنالوجی کی…

2 hours ago