قومی

Waqf Bill 2024: عید پر نماز تک نہیں پڑھنے دے رہے ہیں! وقف بل پر گورو گوگوئی کا سخت اعتراض، خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ایک تو کل دوسرے طبقے پر ہوگی نظر

مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کر دیا، جس پر زبردست بحث جاری ہے۔ اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت اسے زبردستی نافذ کرنا چاہتی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اس بل کے ذریعے اقلیتوں کی زمینوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ کانگریس رہنما گورو گگوئی نے سوال اٹھایا کہ ’’بی جے پی مسلمانوں کے مفاد کی بات کر رہی ہے، لیکن چند روز قبل عید کے دوران انہیں سڑکوں پر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ بل کو گمراہ کن ہے اور اس سے قانونی پیچیدگیاں مزید بڑھیں گی۔‘‘

کل کسی اور کمیونٹی کی زمین پر ہوگی نظر

انہوں نے مزید سوال کیا، ’’بی جے پی کے لوک سبھا میں اقلیتی برادری سے کتنے ممبران پارلیمنٹ ہیں؟ آج ان کی نظر ایک طبقے کی زمین پر ہے، کل کسی اور کمیونٹی کی زمین پر ہوگی۔ حکومت بھائی چارے کے ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہے اور اس کا مقصد سماج میں تفرقہ ڈالنا ہے۔‘‘

حکومت پر حملہ آور ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آپ کس کمیونٹی کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں؟ جنہوں نے آزادی کی جنگ لڑی۔ 2 لاکھ لوگ شہید ہوئے۔ وہ اس کمیونٹی کی شبیہ کو خراب کرنا چاہتے ہیں جس نے ہندوستان چھوڑو اور ڈانڈی مارچ کی تحریکوں میں حصہ لیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے جے پی سی کی ایک بھی ترمیم کو قبول نہیں کیا۔

گورو گگوئی نے 2013 میں وقف قوانین میں کی گئی ترامیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام میں یہ غلط تاثر پیدا کر رہی ہے کہ ہائی کورٹ کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ وقف ایکٹ کے سیکشن 97 کو کتنی بار نافذ کر چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “کیا حکومت یو اے پی اے جیسے سخت قوانین کو دیگر کمیونٹیز پر بھی لاگو کرے گی یا صرف مخصوص طبقے کے خلاف استعمال کرے گی؟”

گورو گوگوئی نے کہا، اس بل کے ذریعے حکومت کے 4 بنیادی مقاصد ہیں-

آئین کو کمزور کرنا

کنفیوژن پھیلانا

ہندوستانی سماج کی تقسیم

اقلیتوں کو الگ تھلگ کرنا

انہوں نے امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “جب بین الاقوامی سطح پر ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے سلوک پر تنقید کی جاتی ہے تو بی جے پی کو تکلیف ہوتی ہے، لیکن یہاں اقلیتوں کے حقوق کو محدود کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔”

یہ بھی پڑھیں: Waqf Bill 2024: وقف میں ترمیم سے مسلمانوں کو فائدہ ہوگا یا نقصان؟ حکومت کے دعووں سے لے کر تحفظات تک سب کچھ جانئے

اپوزیشن نے مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) پر بھی سوال اٹھائے۔ گورو گگوئی نے کہا کہ “ہم نے بہت سی جے پی سی دیکھی ہیں، لیکن ایسی جے پی سی نہیں دیکھی جہاں ایسے لوگ شامل ہوں جنہیں وقف قوانین کی بنیادی معلومات بھی نہ ہوں۔”

بل پیش ہونے سے قبل حکومت اور اپوزیشن دونوں نے اپنے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ اہم میٹنگیں کیں۔ لوک سبھا میں بحث کے لیے 8 گھنٹے مختص کیے گئے ہیں، جس میں بی جے پی کو 4 گھنٹے اور این ڈی اے کو 4 گھنٹے 40 منٹ دیے گئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Habiburrahman

Recent Posts

Prayagraj Film Festival 2026: سنگم نگری میں سنیما کا میلہ، 30 اکتوبر سے پریاگ راج فلم فیسٹیول کا آغاز، نوجوان فنکاروں کو ملے گا پلیٹ فارم

منتظمین کے مطابق، اچھی فلم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احساسات اور…

2 hours ago

12th BRICS Parliamentary Forum: بارہویں برکس پارلیمانی کانفرنس میں شرکت کے بعد ایرانی وفد وطن واپس روانہ

بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…

3 hours ago

India invites Pakistan for SCO forum in Delhi: آپریشن سندور کے بعد پہلی بار بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم میں شرکت کی دعوت دی

پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…

4 hours ago